کیا خبر کہہ دیا کیا آپ نے دیوانے سے

کیا خبر کہہ دیا کیا آپ نے دیوانے سے
اب دل وحشی بہلتا نہیں بہلانے سے


جس کو کچھ ربط ہے ساقی ترے میخانے سے
اس کو مطلب ہے نہ شیشے سے نہ پیمانے سے


ہم کو تھا چین میسر اسی دیوانے سے
مٹ گئے ہم بھی دل زار کے مٹ جانے سے


زندگی ملتی ہے جس شخص کو مر جانے سے
وہ سمجھ سکتا ہے ناصح ترے سمجھانے سے


کس قدر رنج و مصیبت کا مرقع ہوں میں
کانپ اٹھتا ہے مرا دل تری یاد آنے سے


یہ نصیحت تو بجا ناصح مشفق لیکن
کوئی دیوانہ سمجھتا بھی ہے سمجھانے سے


سامنے آؤ ہٹا دو رخ زیبا سے نقاب
کوئی پردہ بھی کیا کرتا ہے دیوانے سے


ہم نے یہ کہہ کے دل زار کو سمجھایا ہے
کام بنتے ہیں کہیں عشق میں گھبرانے سے


میری جمعیت خاطر کو پریشاں نہ کرو
زلف برہم کو ہٹاؤ نہ ابھی شانے سے


آپ کے ظلم کو بھی میں نے کرم سمجھا ہے
شرم آتی ہے مجھے آپ کے شرمانے سے


کیا خبر عشق میں انجام مرا کیا ہوگا
اب یگانے بھی نظر آتے ہیں بیگانے سے


دل دکھانے کا تو انجام برا ہوتا ہے
خود تڑپ جائے گا ظالم مرے تڑپانے سے


اللہ اللہ یہ بیمار محبت کا علاج
رنگ بدلا ترے دامن کی ہوا کھانے سے


جاتے جاتے مری کیفیت دل دیکھتا جا
مجھ پہ کیا گزرے گی اے دوست ترے جانے سے


کیا کریں جی کے یہ جینا بھی کوئی جینا ہے
جب حیات ابدی ملتی ہے مر جانے سے