Mirza Husain Ali Mehnat

مرزا حسین علی محنت

مرزا حسین علی محنت کی غزل

    ہے انکھڑیوں میں نیند تو اک کام کیجیے

    ہے انکھڑیوں میں نیند تو اک کام کیجیے یہ بھی تو گھر ہے آپ کا آرام کیجیے یہ ضعف ہے کہ پہنچے ہے تا صبح رخ تلک گر زلف پر نگاہ سر شام کیجیے کل میں جو یہ کہا کہ کسی کے علم سے آہ مر جائیے بس اور نہ کچھ کام کیجیے تو وہ سنا کے مجھ کو یہ کہتا ہے ایک سے کیا لطف ہے کسی کو جو بد نام کیجیے اس ...

    مزید پڑھیے

    ناصح یہ نصیحت نہ سنا میں نہیں سنتا

    ناصح یہ نصیحت نہ سنا میں نہیں سنتا بک بک کے مرا مغز نہ کھا میں نہیں سنتا احوال مرا دھیان سے سنتا تھا ولیکن کچھ بات جو سمجھا تو کہا میں نہیں سنتا اس بت نے جو غیروں پہ کیا لطف تو یارو مجھ سے نہ کہو بہر خدا میں نہیں سنتا کچھ ذکر میں ذکر اپنا میں لایا تو وہ بولا بس بات کو اتنا نہ بڑھا ...

    مزید پڑھیے