Mirza Athar Zia

مرزا اطہر ضیا

مرزا اطہر ضیا کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    ہر گھڑی برسے ہے بادل مجھ میں

    ہر گھڑی برسے ہے بادل مجھ میں کون ہے پیاس سے پاگل مجھ میں تم نے رو دھو کے تسلی کر لی پھیلتا ہے ابھی کاجل مجھ میں میں ادھورا سا ہوں اس کے اندر اور وہ شخص مکمل مجھ میں چپ کی دیواروں سے سر پھوڑے ہے جو اک آواز ہے پاگل مجھ میں میں تجھے سہل بہت لگتا ہوں تو کبھی چار قدم چل مجھ میں مژدہ ...

    مزید پڑھیے

    ڈھونڈھتا ہے کوئی رستا مرے آئینے میں

    ڈھونڈھتا ہے کوئی رستا مرے آئینے میں قید جو شخص ہے مجھ سا مرے آئینے میں کھینچ لے تجھ کو نہ آئینے کے اندر کا طلسم غور سے دیکھ نہ اتنا مرے آئینے میں اس کے جیسا ہوں میں آئینے کے باہر کوئی رہ رہا ہے وہ جو مجھ سا مرے آئینے میں میں ہی آئینۂ دنیا میں چلا آیا ہوں یا چلی آئی ہے دنیا مرے ...

    مزید پڑھیے

    خود اپنے قتل کا الزام ڈھو رہا ہوں ابھی

    خود اپنے قتل کا الزام ڈھو رہا ہوں ابھی میں اپنی لاش پہ سر رکھ کے رو رہا ہوں ابھی اسی پہ فصل کھڑی ہوگی اک صداؤں کی میں جس زمین پہ خاموشی بو رہا ہوں ابھی سب اپنی اپنی فصیلیں ہٹا لیں رستے سے میں اپنی راہ کی دیوار ہو رہا ہوں ابھی کہو کہ دشت ابھی تھوڑا انتظار کرے میں اپنے پاؤں ندی ...

    مزید پڑھیے

    راس آتی ہے بہت آب و ہوا صحرا کی

    راس آتی ہے بہت آب و ہوا صحرا کی جانے دے دی ہے تجھے کس نے دعا صحرا کی تجھ کو ملنے سے رہا شہر میں وحشت کا علاج تجھ کو شاید کہ شفا بخشے ہوا صحرا کی ہم تو لیتے ہیں مزا گھر میں ہی ویرانی کا ناز برداری کرے کون بھلا صحرا کی اک سمندر ہے مری ذات کے پیمانے میں ڈال رکھی ہے مگر اس پہ ردا صحرا ...

    مزید پڑھیے

    روک رکھا تھا جو ان آنکھوں میں کھارا پانی

    روک رکھا تھا جو ان آنکھوں میں کھارا پانی میری دیواروں میں در آیا وہ سارا پانی ایک دریا کو دکھائی تھی کبھی پیاس اپنی پھر نہیں مانگا کبھی میں نے دوبارا پانی اپنی آنکھوں سے نچوڑوں گا کسی روز اسے کرتا رہتا ہے بہت مجھ سے کنارا پانی اب کے بارش پہ کوئی حق نہیں انسانوں کا اب کے چڑیوں ...

    مزید پڑھیے

تمام