اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے
اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے ہوا آئی کبھی جو شہر جاں سے ہماری سمت بھی چشم عنایت تری خاطر بنے ہیں نیم جاں سے شکایت اس سے ہے جس پر فدا ہوں مجھے شکوہ نہیں سارے جہاں سے نگاہوں سے ادا کرتے ہو مطلب کہاں کہتے ہو کچھ اپنی زباں سے تمہیں تھے یا وہ پرچھائیں تمہاری ابھی بجلی سی جو گزری یہاں ...