Mela Ram Wafa

میلہ رام وفاؔ

پنجاب کے راج کوی ،نامور صحافی ،شاعر اور ناول نویس

Noted journalist, novelist and poet

میلہ رام وفاؔ کے تمام مواد

26 غزل (Ghazal)

    دیا رشک آشفتہ حالوں نے مارا

    دیا رشک آشفتہ حالوں نے مارا ترے حسن پر مرنے والوں نے مارا کبھی دل کا ماتم کبھی آرزو کا مجھے نت نئے مرنے والوں نے مارا ہوا خون سینے میں دل حسرتوں سے تمنائیں بن کر خیالوں نے مارا ترا ہی خیال ان کو آٹھوں پہر ہے مجھے میرے ہی ہم خیالوں نے مارا وہی ہے اگر اے وفا نظم ہستی تو کیا معرکہ ...

    مزید پڑھیے

    کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو

    کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو روز و شب کام رہا آہ و بکا سے مجھ کو پاس خاطر سے نہ دشمن کے ستم کر مجھ پر کھیلنا آتا ہے اے دوست قضا سے مجھ کو ہائے عالم شب فرقت مری مایوسی کا دیتی ہے موت کی امید دلاسے مجھ کو تھا تری فتنہ خرامی سے عیاں دل کا مآل بوئے خوں آتی ہے نقش کف پا سے مجھ ...

    مزید پڑھیے

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے راحت وصل کسی کو تو کسی کو غم ہجر صبر خالق نے دیا ہے مجھے سب کے بدلے اتنی سی بات پہ بگڑے ہی چلے جاتے ہو لے لو تم بوسۂ لب بوسۂ لب کے بدلے فرقت یار میں جینے کے اٹھائے الزام موت آئی نہ مجھے ہجر کی شب کے بدلے آج اغیار ...

    مزید پڑھیے

    ساعتوں کی نہیں بات لمحوں کی ہے جسم سے روح پرواز کر جائے گی

    ساعتوں کی نہیں بات لمحوں کی ہے جسم سے روح پرواز کر جائے گی تم ہماری خبر کو تو کیا آؤ گے اب تمہی کو ہماری خبر جائے گی جس قیامت سے واعظ ڈراتا ہے تو اس قیامت سے کم یہ قیامت نہیں بارہا دل پہ گزری ہے جو ہجر میں بارہا جان پر جو گزر جائے گی میرے چارہ گرو میرے تن پرورو، جاؤ تم کس لیے نیند ...

    مزید پڑھیے

    معنی ترازیاں ہیں رنگیں بیانیاں ہیں

    معنی ترازیاں ہیں رنگیں بیانیاں ہیں دنیا میں جتنے منہ ہیں اتنی کہانیاں ہیں معنی ترازیاں یا رنگیں بیانیاں ہیں یہ بھی کہانیاں ہیں وو بھی کہانیاں ہیں کیا مہربانیاں تھیں کیا مہربانیاں ہیں وہ بھی کہانیاں تھیں یہ بھی کہانیاں ہیں اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر اتنی سی ہے ...

    مزید پڑھیے

تمام

3 نظم (Nazm)

    بسنت کی آمد

    پھر نظر آتی ہے سبزے کی فضا میں دور تک اور خوشبو سے مہکتی ہیں ہوائیں دور تک جاتی ہیں قمری و بلبل کی صدائیں دور تک نیچے اوپر آگے پیچھے دائیں بائیں دور تک ہیں ترنم ریز یکسر شاخ و برگ و بار آج بن گیا ہے ریشہ ریشہ تار موسیقار آج گلشنوں میں ہیں عروسان‌‌ بہار آراستہ گلبن و نخل و نہال و ...

    مزید پڑھیے

    نسیم سحر

    کس ناز کس ادا سے نسیم سحر چلی بو کی طرح رواں ہوئی مثل نظر چلی باغوں کا رخ کیا تو گراتی ثمر چلی شبنم کی پتیوں کو لٹاتی گہر چلی پھولوں کے جام بادۂ‌ مستی سے بھر چلی اہل چمن کو خواب سے بیدار کر چلی روئے چمن کو دیکھ کے زینت مچل پڑی سبزے کو چھیڑ چھاڑ کے لہرا کے چل پڑی تختے گلوں کے چشم زدن ...

    مزید پڑھیے

    اے فرنگی

    اے فرنگی کبھی سوچا ہے یہ دل میں تو نے اور یہ سوچ کے کچھ تجھ کو حیا بھی آئی نا مبارک تھا بہت ہند میں آنا تیرا قحط آیا تیرے ہمراہ وبا بھی آئی تیرے قدموں سے لگی آئی غلامی ظالم ساتھ ہی اس کے غریبوں کی بلا بھی آئی بن گئی باد سموم آہ اثر سے تیرے اس چمن میں جو کبھی باد صبا بھی آئی تیری ...

    مزید پڑھیے