Mehwar Noori

محور نوری

محور نوری کی غزل

    مدہوش کہیں غم کی شرابوں میں ملیں گے

    مدہوش کہیں غم کی شرابوں میں ملیں گے فن کار ہیں ہم خانہ خرابوں میں ملیں گے ناقدریٔ ارباب ہنر آج ہے لیکن کل بن کے سند ساری کتابوں میں ملیں گے ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آئے گی آواز خود میرے سوالات جوابوں میں ملیں گے جو لوگ ہیں دیرینہ روایات کے قاتل تجدید تعلق کے عذابوں میں ملیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ نظر مجھ سے خفا ہو جیسے

    وہ نظر مجھ سے خفا ہو جیسے جسم سے روح جدا ہو جیسے یوں اٹھا میرے نشیمن سے دھواں درد پہلو سے اٹھا ہو جیسے زندگی اپنے ہی زخموں کے سبب کسی مفلس کی قبا ہو جیسے انتظار اس کا مرا تار نفس یک بہ یک ٹوٹ گیا ہو جیسے سانحے کرتے ہیں محورؔ کو تلاش مرکز کرب و بلا ہو جیسے

    مزید پڑھیے

    یاس و غم رنج و الم تنہائیاں اب کے برس

    یاس و غم رنج و الم تنہائیاں اب کے برس میری قسمت میں رہیں ناکامیاں اب کے برس روشنی سورج کی آنکھوں پر ہے منظر دھوپ ہیں لگ رہی ہیں صورتیں پرچھائیاں اب کے برس آئینے میں دیکھ کر خود کو نہ تم ہونا اداس آئینوں میں پڑ گئیں ہیں جھائیاں اب کے برس دیکھنا ہوگا ستم یہ بھی زباں بندی کے ...

    مزید پڑھیے

    نہ ان کا طرز نہ میرا شعار ختم ہوا

    نہ ان کا طرز نہ میرا شعار ختم ہوا نہ آئے وہ نہ مرا انتظار ختم ہوا ہے تشنگی کو ابھی جوئے بار کی امید اگرچہ سلسلۂ کوہسار ختم ہوا اب آشکار ہوئی ہے حقیقت دنیا خود اپنے آپ پہ جب اختیار ختم ہوا نہ تھا بھروسہ تو رکھتے ہی کیسے امیدیں سلوک وقت سے ہر اعتبار ختم ہوا ہر ایک شکل نظر آ رہی ...

    مزید پڑھیے

    جب توقع کا سلسلہ ٹوٹا

    جب توقع کا سلسلہ ٹوٹا خوش گمانی کا دائرہ ٹوٹا نیند ٹوٹی تو خواب ٹوٹ گئے عکس بکھرا جب آئنہ ٹوٹا آج پھر جستجو کی موت ہوئی آج پھر میرا حوصلہ ٹوٹا تبصرہ زندگی پہ کیا کیجے جیسے پانی کا بلبلہ ٹوٹا آج محورؔ ہے اس قدر تنہا جیسے خود سے بھی رابطہ ٹوٹا

    مزید پڑھیے

    اپنی مثال آپ ہے وہ بے مثال ہے

    اپنی مثال آپ ہے وہ بے مثال ہے یہ دیکھنا ہے کون مرا ہم خیال ہے ہر قہقہے میں درد کے ساگر ہیں تہہ نشیں دیوانہ دیکھنے میں تو آسودہ حال ہے کب سبزۂ نشاط ہے آسودۂ نظر ہر سمت سرخ سرخ صلیبوں کا جال ہے پتھر بدست ملتا ہے ہر شخص شہر میں آئینہ بن گئے ہیں تو بچنا محال ہے بربادیٔ حیات پہ ...

    مزید پڑھیے

    نہ ہم کو یاد کرو اور نہ یاد آؤ ہمیں

    نہ ہم کو یاد کرو اور نہ یاد آؤ ہمیں عجیب حکم ہے کہتے ہیں بھول جاؤ ہمیں تمہارے چہرے تو کچھ روشنی میں آ جاؤ جو ہو سکے تو ذرا دیر تک جلاؤ ہمیں ہمیں عزیز ہو کتنے یہ جاننے کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے آزماؤ ہمیں کھلیں گے کتنے ہی اسرار لفظ لفظ مگر کبھی تو تم بھی اکیلے میں گنگناؤ ...

    مزید پڑھیے

    دل میں امنگ آنکھوں میں حسرت لیے پھروں

    دل میں امنگ آنکھوں میں حسرت لیے پھروں میں شہر شہر تیری محبت لیے پھروں رسوائیوں کے خوف سے خاموشیوں کے ساتھ میں دل میں تیرے پیار کی لذت لیے پھروں جچتا نہیں ہے کوئی نگاہوں میں ان دنوں ہر پل ترے خیال کی ندرت لیے پھروں ابھرے گا تیرے لب سے کبھی حرف دوستی دل میں اس انتظار کی حسرت لیے ...

    مزید پڑھیے