Mehwar Noori

محور نوری

محور نوری کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    مدہوش کہیں غم کی شرابوں میں ملیں گے

    مدہوش کہیں غم کی شرابوں میں ملیں گے فن کار ہیں ہم خانہ خرابوں میں ملیں گے ناقدریٔ ارباب ہنر آج ہے لیکن کل بن کے سند ساری کتابوں میں ملیں گے ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آئے گی آواز خود میرے سوالات جوابوں میں ملیں گے جو لوگ ہیں دیرینہ روایات کے قاتل تجدید تعلق کے عذابوں میں ملیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ نظر مجھ سے خفا ہو جیسے

    وہ نظر مجھ سے خفا ہو جیسے جسم سے روح جدا ہو جیسے یوں اٹھا میرے نشیمن سے دھواں درد پہلو سے اٹھا ہو جیسے زندگی اپنے ہی زخموں کے سبب کسی مفلس کی قبا ہو جیسے انتظار اس کا مرا تار نفس یک بہ یک ٹوٹ گیا ہو جیسے سانحے کرتے ہیں محورؔ کو تلاش مرکز کرب و بلا ہو جیسے

    مزید پڑھیے

    یاس و غم رنج و الم تنہائیاں اب کے برس

    یاس و غم رنج و الم تنہائیاں اب کے برس میری قسمت میں رہیں ناکامیاں اب کے برس روشنی سورج کی آنکھوں پر ہے منظر دھوپ ہیں لگ رہی ہیں صورتیں پرچھائیاں اب کے برس آئینے میں دیکھ کر خود کو نہ تم ہونا اداس آئینوں میں پڑ گئیں ہیں جھائیاں اب کے برس دیکھنا ہوگا ستم یہ بھی زباں بندی کے ...

    مزید پڑھیے

    نہ ان کا طرز نہ میرا شعار ختم ہوا

    نہ ان کا طرز نہ میرا شعار ختم ہوا نہ آئے وہ نہ مرا انتظار ختم ہوا ہے تشنگی کو ابھی جوئے بار کی امید اگرچہ سلسلۂ کوہسار ختم ہوا اب آشکار ہوئی ہے حقیقت دنیا خود اپنے آپ پہ جب اختیار ختم ہوا نہ تھا بھروسہ تو رکھتے ہی کیسے امیدیں سلوک وقت سے ہر اعتبار ختم ہوا ہر ایک شکل نظر آ رہی ...

    مزید پڑھیے

    جب توقع کا سلسلہ ٹوٹا

    جب توقع کا سلسلہ ٹوٹا خوش گمانی کا دائرہ ٹوٹا نیند ٹوٹی تو خواب ٹوٹ گئے عکس بکھرا جب آئنہ ٹوٹا آج پھر جستجو کی موت ہوئی آج پھر میرا حوصلہ ٹوٹا تبصرہ زندگی پہ کیا کیجے جیسے پانی کا بلبلہ ٹوٹا آج محورؔ ہے اس قدر تنہا جیسے خود سے بھی رابطہ ٹوٹا

    مزید پڑھیے

تمام