Mehar Rudauli

مہر رودولوی

مہر رودولوی کی نظم

    ٹافی اور مٹھائی

    بازار سے لوٹ آئے ابا بھی اور امی بھی منی کے لیے لائے ٹافی بھی مٹھائی بھی بارات بھی نکلی تھی بریانی بھی پکی تھی کس دھوم سے کی ہم نے کل گڈے کی شادی بھی استاد کی فطرت میں نرمی بھی ہے سختی بھی وہ پیار بھی کرتے ہیں کرتے ہیں پٹائی بھی اب ڈیڈی بھی اور امی بھی پڑھتے ہیں مزے لے کر مرغوب ...

    مزید پڑھیے