Meer Soz

میر سوز

میر سوز کی غزل

    جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا

    جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا کون اس کا رقیب ہووے گا بے وطن بے رفیق بے اسباب کون ایسا غریب ہووے گا درد دل کی دوا ہو جس کے پاس کوئی ایسا طبیب ہووے گا مل رہے گا کبھی تو دنیا میں گر ہمارا نصیب ہووے گا سوزؔ کو وہ ملائے گا تجھ سے جو خدا کا حبیب ہووے گا

    مزید پڑھیے

    عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھا

    عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھا جگ کے خرابہ اندر اک خوار تھا سو میں تھا داخل شہیدوں میں تو لوہو لگا کے سب تھے شمشیر ناز سے پر افگار تھا سو میں تھا سنبل کے پیچ میں دل تیرے نہ تھا کسی کا نرگس کا ایک تیری بیمار تھا سو میں تھا تجھ گھر میں عرض مطلب کس کی نہ تھا زباں پر در پر جو ...

    مزید پڑھیے

    آہ میں بے قرار کس کا ہوں

    آہ میں بے قرار کس کا ہوں کشتۂ انتظار کس کا ہوں تیر سا دل میں کچھ کھٹکتا ہے دیکھیو میں شکار کس کا ہوں دل ہے یا میں ہوں میں ہوں یا دل ہے اور اب ہم کنار کس کا ہوں چین آتا نہیں مجھے یارو دل پر اضطرار کس کا ہوں چاک ہے مثل گل تمام بدن یا رب اتنا فگار کس کا ہوں سوزؔ میں جو کہا کہاں تھا ...

    مزید پڑھیے

    اپنے نالے میں گر اثر ہوتا

    اپنے نالے میں گر اثر ہوتا قطرۂ اشک بھی گہر ہوتا جن کے نامے کی ہے پہنچ تجھ تک کاش میں ان کا نامہ بر ہوتا دل نہ دیتا جو میں تجھے ظالم کیوں مری جان کا ضرر ہوتا پھر نہ کرتا ستم کسی پہ اگر حال سے میرے باخبر ہوتا خون عشاق کرتے کیوں ناحق گر بتوں کو خدا کا ڈر ہوتا کام آتا میں ایک دن ...

    مزید پڑھیے

    پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے

    پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے مجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہے اے مرے بدمست مت کر تو غزالوں کا شکار لے نہ میرے دل کو چکھ یہ زور ہی بریان ہے کیا دعا دیتے ہو میاں جیتے رہو جیتے رہو زندگانی تو نہیں انگریز کا زندان ہے ایک بوسہ مچ مچا کر بیچ سے ہونٹوں کے دے پھر اگر دل تجھ ...

    مزید پڑھیے

    ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تم

    ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تم کیوں دوانے ہو گئے ہو جان کیوں کھاتے ہو تم مجھ سے کہتے ہو کہ میں ہرگز نہیں پیتا شراب میں تمہارا دوست یا دشمن کہ شرماتے ہو تم اور جو بیٹھے رہیں تو ان سے تم محظوظ ہو جب ہمیں آتے ہیں تو گھبرا کے اٹھ جاتے ہو تم لو جی اب آرام سے بیٹھے رہو جاتے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہے

    محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہے یہ آئینہ یہاں کہتا ہے کیسی آشنائی ہے بھلا بوسہ ہم اس سے آج مانگیں گے کسی ڈھب سے توقع تو نہیں لیکن یہ طالع آزمائی ہے محبوں کو کریں ہیں قتل دشمن کو جلاتے ہیں بتوں کی بھی میاں صاحب نرالی ہی خدائی ہے عجائب رسم ہے ان دلبران دہر کی یا رب کسی کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2