Meer Soz

میر سوز

میر سوز کی غزل

    یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا

    یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا کہاں کا جان کو میری دھرا تھا وہ ساعت کون سی تھی یا الٰہی کہ جس ساعت دو چار اس سے ہوا تھا میں کاش اس وقت آنکھیں موند لیتا کہ میرا دیکھنا مجھ پر بلا تھا میں اپنے ہاتھ اپنے دل کو کھویا خداوندا میں کیوں عاشق ہوا تھا نہ تھا اس وقت جز اللہ کوئی ولے یہ سوزؔ ...

    مزید پڑھیے

    غمزۂ چشم شرمسار کہاں

    غمزۂ چشم شرمسار کہاں سر تو حاضر ہے تیغ یار کہاں گل بھی کرتا ہے چاک اپنا جیب پر گریباں سا تار تار کہاں ہو غزالوں کو اس سے ہم چشمی تیکھی چتون کہاں خمار کہاں عندلیبوں نے گل کو گھیر لیا ایک جیوڑا کہاں ہزار کہاں ایک دن ایک شخص نے پوچھا میر صاحب تمہارا یار کہاں میں نے اس سے کہا کہ ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں

    ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں نہ تو کوئی آدمی جانے ہے نہ حساب میں نہ کتاب میں نہ تو علم اپنے میں ہے یہاں کہ خدا نے بھیجا ہے کس لیے اسی کو جو کہتے ہیں زندگی سو تو جسم کے ہے عذاب میں یہی شکل ہے جسے دیکھو ہو یہی وضع ہے جسے گھورو ہو جسے جان کہتے ہیں آدمی اسے دیکھا ...

    مزید پڑھیے

    تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا

    تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا بہتوں کا جگر کباب ہوگا ڈھونڈھے گا سحاب چھپنے کو مہر جس روز وہ بے نقاب ہوگا خوباں سے نہ کر محبت اے دل آمان کہاں خراب ہوگا اے مرگ شتاب کہہ تو مجھ سے اس زیست کو کب جواب ہوگا بوسہ دے سوزؔ کو مری جان مطلب تیرا شتاب ہوگا

    مزید پڑھیے

    جو ہم سے تو ملا کرے گا

    جو ہم سے تو ملا کرے گا بندہ تجھ کو دعا کرے گا بوسہ تو دے کبھو مری جان مولا ترا بھلا کرے گا ہم تم بیٹھیں گے پاس مل کر وہ دن بھی کبھو خدا کرے گا دل تیرے کام کا نہیں تو بندہ پھر لے کے کیا کرے گا پچھتائے گا مل کے سوزؔ سے ہاں ہم کہتے ہیں برا کرے گا ہے شوخ مزاج سوزؔ واللہ چھیڑے گا اسے ...

    مزید پڑھیے

    جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگا

    جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگا اتنا ہی خراب و خوار ہوگا ہر روز ہو روز عید تو بھی تو مجھ سے نہ ہم کنار ہوگا بس دل اتنا تڑپ نہ چپ رہ تجھ کو بھی کہیں قرار ہوگا دیکھے جو کوئی چمن میں تجھ کو گل اس کی نظر میں خار ہوگا شکوے میں ہو جس کے خون کی بو تیرا ہی وہ دل فگار ہوگا ناصح نہ ہو گریہ سے جو ...

    مزید پڑھیے

    کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا

    کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا جو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گا زلفوں سے پڑا طول میں اب عشق کا جھگڑا خط آن کے یہ مجہلہ کوتاہ کرے گا بوسے کی طلب سے تو رہے گا تبھی اے دل جب گالیاں دو چار وہ تنخواہ کرے گا آئینے کو ٹک بھر کے نظر دیکھ تو پیارے وہ تجھ کو مرے حال سے آگاہ کرے گا احوال ...

    مزید پڑھیے

    اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا

    اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا تو جیتے جی نہ لیتا نام ہرگز آشنائی کا جو عاشق صاف ہیں دل سے انہیں کو قتل کرتے ہیں بڑا چرچا ہے معشوقوں میں عاشق آزمائی کا کروں اک پل میں برہم کارخانے کو محبت کے اگر عالم میں شہرہ دوں تمہاری بے وفائی کا جفا یا مہر جو چاہے سو کر لے اپنے بندوں ...

    مزید پڑھیے

    حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میں

    حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میں تو بھکاری ترا کہاؤں میں ایک بوسہ دو دوسرا توبہ پھر جو مانگوں تو مار کھاؤں میں اس طرح لوں کہ بھاپ بھی نہ لگے ہونٹ سے منہ اگر ملاؤں میں شہر کو چھوڑ کر نکل جاؤں ہاں تجھے منہ نہ پھر دکھاؤں میں

    مزید پڑھیے

    ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھا

    ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھا اسے اپنی ہستی سے بے زار دیکھا ادا ہی کی حسرت میں سب مر گئے سچ تجلی کو کس نے بہ تکرار دیکھا تری آنکھ بھر جس نے تصویر دیکھی وہ تصویر سا نقش دیوار دیکھا عجب کچھ زمانے کی ہے رسم یارو جو ہے کام کا اس کو بیکار دیکھا ولیکن اچنبھا بڑا مجھ کو یہ ہے کہ ٹک سوزؔ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2