زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئی
زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئی ابھی یاں چھین لیے جبہ و دستار کئی سنگ دل کوں نہ کسی کی ہوئی افسوس خبر مر گئے سر کوں پٹک کر پس دیوار کئی ناتواں مجھ سا بھلا کون ہے انصاف تو کر چشم فتاں کے ترے گرچہ ہیں بیمار کئی دل کی بیتابی سے اور چشم کی بے خوابی سے نظر آنے لگے اب عشق کے آثار ...