Meer Mohammadi Bedar

میر محمدی بیدار

  • 1732 - 1796

میر محمدی بیدار کی غزل

    زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئی

    زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئی ابھی یاں چھین لیے جبہ و دستار کئی سنگ دل کوں نہ کسی کی ہوئی افسوس خبر مر گئے سر کوں پٹک کر پس دیوار کئی ناتواں مجھ سا بھلا کون ہے انصاف تو کر چشم فتاں کے ترے گرچہ ہیں بیمار کئی دل کی بیتابی سے اور چشم کی بے خوابی سے نظر آنے لگے اب عشق کے آثار ...

    مزید پڑھیے

    ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیں

    ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیں ورنہ نالے تو یہ پتھر میں اثر کرتے ہیں دل و دیں تھا سو لیا اور بھی کچھ مطلب ہے بار بار آپ جو ایدھر کو نظر کرتے ہیں فائدہ کیا ہے اگر شرق سے تا غرب پھرے راہرو وے ہیں جو ہستی سے سفر کرتے ہیں ہم تو ہر شکل میں یاں آئنہ خانے کی مثال آپ ہی آتے ہیں نظر سیر ...

    مزید پڑھیے

    وجد اہل کمال ہے کچھ اور

    وجد اہل کمال ہے کچھ اور شیخ صاحب کا حال ہے کچھ اور ہوش جاتا ہے اہل ہوش کا سن تیرے مستوں کا حال ہے کچھ اور فخر انساں نہیں ملک ہونا جی میں اپنے خیال ہے کچھ اور جس کو کہتے ہیں وصل وصل نہیں معنیٔ اتصال ہے کچھ اور غیر حرف نیاز سو بھی کبھو کہہ سکوں ہوں مجال ہے کچھ اور رخ خورشید پر ...

    مزید پڑھیے

    ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کرو

    ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کرو پھر مری جان جو کچھ چاہو سو بیداد کرو گر کسی غیر کو فرماؤ گے تب جانو گے وے ہمیں ہیں کہ بجا لاویں جو ارشاد کرو اب تو ویراں کئے جاتے ہو طرب خانۂ دل آہ کیا جانے کب آ پھر اسے آباد کرو یاد میں اس قد و رخسار کے اے غم زدگاں جا کے ٹک باغ میں سیر گل و شمشاد ...

    مزید پڑھیے

    اے شمع دل افروز شب تار محبت

    اے شمع دل افروز شب تار محبت بخشے ہے یہی گرمی بازار محبت کرتے ہیں عبث مجھ دل بیمار کا درماں وابستہ مری جاں سے ہے آزار محبت اے لالہ رخاں ان کے تئیں داغ نہ سمجھو پھولا ہے مرے سینہ میں گل زار محبت گر ہم سے چھپاتا ہے تو بیدارؔ ولیکن انکار ہی تیرا ہے یہ اقرار محبت رہتا ہے مری جان ...

    مزید پڑھیے

    جو تو ہو پاس تو دیکھوں بہار آنکھوں سے

    جو تو ہو پاس تو دیکھوں بہار آنکھوں سے وگرنہ کرتے ہیں گل کار خار آنکھوں سے کہاں ہے تو کہ میں کھینچوں ہوں راہ میں تیری بسان نقش قدم انتظار آنکھوں سے زبس کہ آتش غم شعلہ زن ہے سینہ میں گریں ہیں اشک کی جاگہ شرار آنکھوں سے میں یاد کر در دندان یار روتا ہوں ٹپکتے ہیں گہر آب دار آنکھوں ...

    مزید پڑھیے

    لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب

    لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب آ ملو پھر درنگ کیا ہے اب پی گئے خم کے خم نہ کی مستی یاں شراب فرنگ کیا ہے اب اس نگہ کا ہے دل جراحت کش زخم تیغ و خدنگ کیا ہے اب ہوں میں دریائے عشق کا غواص خوف کام نہنگ کیا ہے اب دید و وا دید تو ہوے باہم شرم اے شوخ و سنگ کیا ہے اب دل سے وحشی کے تئیں شکار ...

    مزید پڑھیے

    ہم ہی تنہا نہ تری چشم کے بیمار ہوئے

    ہم ہی تنہا نہ تری چشم کے بیمار ہوئے اس مرض میں تو کئی ہم سے گرفتار ہوئے سینۂ خستہ ہمارے سے ہے غربال کو رشک ناوک غم جگر و دل سے زبس پار ہوئے بکنے موتی لگے بازار میں کوڑی کوڑی یاد میں تیری زبس چشم گہر بار ہوئے روز اول کہ تم آ مصر محبت کے بیچ یوسف عصر ہوئے رونق بازار ہوئے نقد جان ...

    مزید پڑھیے

    کوئی کس طرح تم سے سر بر ہو

    کوئی کس طرح تم سے سر بر ہو سخت بے رحم ہو ستم گر ہو اٹھ گیا ہم سے گو مکدر ہو خوش رہے وہ جہاں ہو جیدھر ہو تیوری چڑھ رہی ہے یہ بھوں پر کیا ہے کیوں کس لیے مکدر ہو کیا شتابی ہی ایسے جائے گا خشک تو ہو عرق ابھی تر ہو جان کھائی ہے ناصحو نے مری سامنے ان کے تو ٹک آ کر ہو لیجے حاضر ہے چیز کیا ...

    مزید پڑھیے

    تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو

    تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو یہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہو چاہ کا ذکر تمہاری میں کیا کس آگے کون کہتا ہے ''کہو'' کس کی زباں سنتے ہو کشش عشق ہی لائی ہے تمہیں یاں ورنہ آپ سے تھا نہ مجھے یہ تو گماں سنتے ہو ایک شب میرا بھی افسانۂ جاں سوز سنو قصے اوروں کے تو اے جان ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5