Meer Mohammadi Bedar

میر محمدی بیدار

  • 1732 - 1796

میر محمدی بیدار کی غزل

    حصول فقر گر چاہے تو چھوڑ اسباب دنیا کو

    حصول فقر گر چاہے تو چھوڑ اسباب دنیا کو لگا دے آگ یکسر بستر سنجاب و دیبا کو رکھے ہیں حق پرستاں ترک جمعیت میں جمعیت میسر ہووے یہ دولت کہاں ارباب دنیا کو فریب رنگ و بوئے دہر مت کھا مرد عاقل ہو سمجھ آتش کدہ اس گلشن شاداب دنیا کو سیہ مست مے تحقیق ہو گر پاک طینت ہے نجس مت جام کر تو بھر ...

    مزید پڑھیے

    مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہے

    مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہے ہر طفل کے یاں اشک سے آلودہ ورق ہے ہوں منتظر اس مہر کے آنے ہی کا ورنہ شبنم کی طرح آنکھوں میں دم کوئی رمق ہے دیکھ اے چمن حسن تجھے باغ میں خنداں شبنم نہیں یہ گل پہ خجالت سے عرق ہے وہ چاند سا منہ سرخ دوپٹہ میں ہے رخشاں یا مہر کہوں جلوہ نما زیر شفق ...

    مزید پڑھیے

    آہ ملتے ہی پھر جدائی کی

    آہ ملتے ہی پھر جدائی کی واہ کیا خوب آشنائی کی نہ گئی تیری سرکشی ظالم ہم نے ہر چند جبہ سائی کی دل نہیں اپنے اختیار میں آج کیا مگر تو نے آشنائی کی در پہ اے یار تیرے آ پہنچے تپش دل نے رہنمائی کی قابل سجدہ تو ہی ہے اے بت سیر کی ہم نے سب خدائی کی جو مقید ہیں تیری الفت کے آرزو کب ...

    مزید پڑھیے

    نہیں آرام ایک جا دل کو

    نہیں آرام ایک جا دل کو آہ کیا جانے کیا ہوا دل کو اے بتاں محترم رکھو اس کو کہتے ہیں خانۂ خدا دل کو لے تو جاتے ہو مہرباں لیکن کیجو مت آپ سے جدا دل کو منہ نہ پھیرا کبھی جفا سے تری آفریں دل کو مرحبا دل کو یہ توقع نہ تھی ہمیں ہرگز کہ دکھاؤ گے یہ جفا دل کو ہیں یہی ڈھنگ آپ کے تو ...

    مزید پڑھیے

    مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا

    مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا سنگ غیرت سے مرا شیشۂ دل چور ہوا ایک تو آگے ہی تھا حسن پر اپنے نازاں آئینہ دیکھ کے وہ اور بھی مغرور ہوا صبح ہوتے ہی ہوا مجھ سے جدا وہ مہ رو روز گویا مرے حق میں شب دیجور ہوا تیغ مت کھینچ کہ ایک جنبش ابرو بس ہے گر مرا قتل ہی ظالم تجھے منظور ہوا از ...

    مزید پڑھیے

    کل وہ جو پئے شکار نکلا

    کل وہ جو پئے شکار نکلا ہر دل ہو امیدوار نکلا جینے کی نہیں امید ہم کو تیر اس کا جگر کے پار نکلا ہم خاک بھی ہو گئے پر اب تک دل سے نہ ترے غبار نکلا جوں بام پہ بے نقاب ہو کر وہ ماہ رخ ایک بار نکلا اس روز مقابل اس کے خورشید نکلا بھی تو شرمسار نکلا غم خوار ہو کون اب ہمارا جب تو ہی نہ غم ...

    مزید پڑھیے

    اس ستم گر سے جو ملا ہوگا

    اس ستم گر سے جو ملا ہوگا جان سے ہاتھ دھو چکا ہوگا عشق میں تیرے ہم جو کچھ دیکھا نہ کسی نے کبھی سنا ہوگا آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا تو ہی آنکھوں میں تو ہی ہے دل میں کون یاں اور تجھ سوا ہوگا اے میاں گل تو کھل چکے پہ کبھو غنچۂ دل مرا بھی وا ہوگا دیکھ تو فال ...

    مزید پڑھیے

    نہ دیا اس کوں یا دیا قاصد

    نہ دیا اس کوں یا دیا قاصد سچ بتا نامہ کیا کیا قاصد نہ پھرا آہ کوئی لے کے جواب جو گیا واں سو گم ہوا قاصد آج آوے گا یا نہ آوے گا میرے گھر میں وہ دل ربا قاصد دل کو ہے سخت انتظار جواب کہہ شتابی سے کیا کہا قاصد کوچۂ یار میں مرے زنہار جائیو مت برہنہ پا قاصد خار مژگان کشتگان وفا واں ...

    مزید پڑھیے

    سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوش

    سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوش اگر پوچھو تو ہے ہم سے ہی نا خوش خوشی تیری ہی ہے منظور ہم کو بلا سے گر کوئی نا خوش ہو یا خوش رواق چشم و قصر دل کیا سیر نہ کی پر آپ نے یاں کوئی جا خوش جفا کر یا وفا مختار ہے تو مجھے یکساں ہے کیا نا خوش ہے کیا خوش نہیں اس میں تو غیر از جور لیکن مجھے کیا ...

    مزید پڑھیے

    لب رنگیں ہیں ترے رشک عقیق یمنی

    لب رنگیں ہیں ترے رشک عقیق یمنی زیب دیتی ہے تجھے نام خدا کم سخنی ہار کل پہنے تھے پھولوں کے نشاں ہے اب تک ختم ہے گل بدنوں میں تری نازک بدنی شرم سے آب ہوئے نیشکر و قند و نبات دیکھ کر اے شکریں لب تری شیریں دہنی میوۂ باغ ارم اس کو نہ بھاوے ہرگز توبر‌ بوسہ کیا جس نے وہ سیب ذقنی جھوٹے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5