لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب

لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب
آ ملو پھر درنگ کیا ہے اب


پی گئے خم کے خم نہ کی مستی
یاں شراب فرنگ کیا ہے اب


اس نگہ کا ہے دل جراحت کش
زخم تیغ و خدنگ کیا ہے اب


ہوں میں دریائے عشق کا غواص
خوف کام نہنگ کیا ہے اب


دید و وا دید تو ہوے باہم
شرم اے شوخ و سنگ کیا ہے اب


دل سے وحشی کے تئیں شکار کیا
صید شیر و پلنگ کیا ہے اب


تھی جو رسوائی ہو چکی بیدارؔ
پاس ناموس و ننگ کیا ہے اب