Meer Mohammad Sultan Aaqil

میر محمد سلطان عاقل

میر محمد سلطان عاقل کی غزل

    ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں

    ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں کدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیں نہ باز رکھ ہم کو رونے سے تو گریں جو اشکوں کے دانے بہتر یہ کشت حسرت میں اپنی ہمدم امید کا تخم بو رہے ہیں ادھر ترقی خیال کو ہے ادھر ترقی جمال کو ہے وہاں تو مد نظر ہے سرمہ یہاں ...

    مزید پڑھیے

    یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہی

    یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہی ہم یہ سمجھیں گے کہ افزائش غم اور سہی تم نہ آؤ گے تو کیا جان نہ جائے گی مری آمد و رفت نفس کی کوئی دم اور سہی کہتے ہیں ظلم کے بعد آہ کرو گے تو کیا لشکر جور و جفا میں یہ علم اور سہی جھک کے ملنے سے تمہارے مجھے خوف آتا ہے گو یہ خم اور سہی تیغ کا خم اور ...

    مزید پڑھیے

    نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کا

    نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کا مجھے تو نے ظالم نہ رکھا کہیں کا عبث امتحاں میں لگاتے ہو وقفہ بھروسا ہے کیا میری جان حزیں کا مجھے گھر میں گردش ہے پتلی کی صورت یہ اعجاز ہے چشم سحر آفریں کا پرانا نہ فتنہ ترے گھر سے اٹھا نیا آسماں ہے مگر اس زمیں کا کبھی میرے تن میں کبھی اس کے گھر ...

    مزید پڑھیے

    واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئے

    واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئے مدت ہوئی ہے توبہ سے توبہ کیے ہوئے مشق خرام گور غریباں میں کیا ضرور محشر بپا کریں گے یہ مردے جئے ہوئے خاموش کیوں ہیں شہر خموشاں کی ساکنین گویا دہن ہیں تار نفس سے سئے ہوئے ناآزمودہ کاریٔ حسن ان کی ہے غضب شرمائے پھرتے ہیں وہ مرا دل لئے ہوئے یہ ...

    مزید پڑھیے