ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں
ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں کدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیں نہ باز رکھ ہم کو رونے سے تو گریں جو اشکوں کے دانے بہتر یہ کشت حسرت میں اپنی ہمدم امید کا تخم بو رہے ہیں ادھر ترقی خیال کو ہے ادھر ترقی جمال کو ہے وہاں تو مد نظر ہے سرمہ یہاں ...