Meer Mohammad Sultan Aaqil

میر محمد سلطان عاقل

میر محمد سلطان عاقل کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں

    ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں کدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیں نہ باز رکھ ہم کو رونے سے تو گریں جو اشکوں کے دانے بہتر یہ کشت حسرت میں اپنی ہمدم امید کا تخم بو رہے ہیں ادھر ترقی خیال کو ہے ادھر ترقی جمال کو ہے وہاں تو مد نظر ہے سرمہ یہاں ...

    مزید پڑھیے

    یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہی

    یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہی ہم یہ سمجھیں گے کہ افزائش غم اور سہی تم نہ آؤ گے تو کیا جان نہ جائے گی مری آمد و رفت نفس کی کوئی دم اور سہی کہتے ہیں ظلم کے بعد آہ کرو گے تو کیا لشکر جور و جفا میں یہ علم اور سہی جھک کے ملنے سے تمہارے مجھے خوف آتا ہے گو یہ خم اور سہی تیغ کا خم اور ...

    مزید پڑھیے

    نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کا

    نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کا مجھے تو نے ظالم نہ رکھا کہیں کا عبث امتحاں میں لگاتے ہو وقفہ بھروسا ہے کیا میری جان حزیں کا مجھے گھر میں گردش ہے پتلی کی صورت یہ اعجاز ہے چشم سحر آفریں کا پرانا نہ فتنہ ترے گھر سے اٹھا نیا آسماں ہے مگر اس زمیں کا کبھی میرے تن میں کبھی اس کے گھر ...

    مزید پڑھیے

    واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئے

    واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئے مدت ہوئی ہے توبہ سے توبہ کیے ہوئے مشق خرام گور غریباں میں کیا ضرور محشر بپا کریں گے یہ مردے جئے ہوئے خاموش کیوں ہیں شہر خموشاں کی ساکنین گویا دہن ہیں تار نفس سے سئے ہوئے ناآزمودہ کاریٔ حسن ان کی ہے غضب شرمائے پھرتے ہیں وہ مرا دل لئے ہوئے یہ ...

    مزید پڑھیے