Meer Ali Ausat Rashk

میر علی اوسط رشک

میر علی اوسط رشک کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    میرے لیے دنیا کے قضایا کو بنایا

    میرے لیے دنیا کے قضایا کو بنایا تیرے لیے آسائش دنیا کو بنایا مظروف سے تقدیم کہاں ظرف نے پائی دل بعد بنا پہلے تمنا کو بنایا ہوتا چلا آتا ہے زمانہ تہہ و بالا اعلیٰ کو بگاڑا کبھی ادنیٰ کو بنایا مے خانہ دنیا میں ہے افراط مے عز جھکنے کے لیے گردن مینا کو بنایا ہے گفت و شنید ایسے سے ...

    مزید پڑھیے

    دل و دیدہ پر کیا اجارہ ہمارا

    دل و دیدہ پر کیا اجارہ ہمارا نہ صحرا ہمارا نہ دریا ہمارا فلک بھی جو چاہے تو اچھے نہ ہوں گے ہمارا عدو ہے مسیحا ہمارا گریبان وحشت نے پھاڑا تو کیا غم خدا رکھنے والا ہے پردہ ہمارا محبت نبھے بت کہ ہو خانۂ دل ہمارا تمہارا تمہارا ہمارا ہم اے رشکؔ مٹتے رہے آبرو پر رہا نقش بر آب نقشہ ...

    مزید پڑھیے

    اس قدر ہستئ موہوم سے شرماتا ہوں

    اس قدر ہستئ موہوم سے شرماتا ہوں ذکر جینے کا جو آتا ہے تو مر جاتا ہوں موت نے کتنے بکھیڑوں سے چھڑایا مجھ کو نہ تڑپتا ہوں نہ روتا ہوں نہ چلاتا ہوں کام مجھ سے نہیں ہوتا کوئی جز جرم و گناہ محنت کاتب اعمال سے شرماتا ہوں ایک خط یار کو لکھتا ہوں جو بیتابی میں دوسرا کاتب‌ اعمال سے ...

    مزید پڑھیے

    سب مجھے بے سر و پا کہتے ہیں

    سب مجھے بے سر و پا کہتے ہیں اے محبت اسے کیا کہتے ہیں جو کچھ اس بت کو برہمن نے کہا ہم کہیں اس سے سوا کہتے ہیں میں جو روؤں اسے کہتے ہیں مرض وہ ہنسے اس کو دوا کہتے ہیں جھک کے قاتل کو مناسب ہے سلام اس کو تسلیم و رضا کہتے ہیں کیا ہوا کہیے جو اس بت کو خدا لوگ بندوں کو خدا کہتے ہیں کاتب ...

    مزید پڑھیے

    جو رنج نوشتے میں ہے کیوں کر نہ ملے گا

    جو رنج نوشتے میں ہے کیوں کر نہ ملے گا لکھوائیں گے نامہ تو کبوتر نہ ملے گا جس رات نقاب اس مہ کامل نے الٹ دی تاروں کو نشان‌ مہ انور نہ ملے گا ابر شب فرقت ہے بندھے آنسوؤں کا تار اس طرح کا وقت اے مژۂ تر نہ ملے گا کاہیدگیٔ جسم اگر یوں ہی رہے گی ہم کو بھی ہمارا تن لاغر نہ ملے گا انصاف ...

    مزید پڑھیے