اس قدر ہستئ موہوم سے شرماتا ہوں
اس قدر ہستئ موہوم سے شرماتا ہوں
ذکر جینے کا جو آتا ہے تو مر جاتا ہوں
موت نے کتنے بکھیڑوں سے چھڑایا مجھ کو
نہ تڑپتا ہوں نہ روتا ہوں نہ چلاتا ہوں
کام مجھ سے نہیں ہوتا کوئی جز جرم و گناہ
محنت کاتب اعمال سے شرماتا ہوں
ایک خط یار کو لکھتا ہوں جو بیتابی میں
دوسرا کاتب اعمال سے لکھواتا ہوں
ایک ہم درد نہیں عالم تنہائی میں
مجھ کو سمجھاتا ہے دل دل کو میں سمجھاتا ہوں