یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے
یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے خدا کا کیا ہے کہ وہ تو خدا بنا ہوا ہے دبا سکا نہ صدا اس کی تیری بزم کا شور خموش رہ کے بھی کوئی صدا بنا ہوا ہے میں چاہتا ہوں مسیحا کے دل میں بھی رکھ دوں وہ درد میرے لیے جو دوا بنا ہوا ہے یہ کار عشق ہے رکھ اپنے انہماک سے کام نہ دیکھ بگڑا ہوا ...