Meer Ahmad Naved

میر احمد نوید

میر احمد نوید کی غزل

    یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے

    یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے خدا کا کیا ہے کہ وہ تو خدا بنا ہوا ہے دبا سکا نہ صدا اس کی تیری بزم کا شور خموش رہ کے بھی کوئی صدا بنا ہوا ہے میں چاہتا ہوں مسیحا کے دل میں بھی رکھ دوں وہ درد میرے لیے جو دوا بنا ہوا ہے یہ کار عشق ہے رکھ اپنے انہماک سے کام نہ دیکھ بگڑا ہوا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2