Meer Ahmad Naved

میر احمد نوید

میر احمد نوید کی غزل

    پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں

    پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں رہتا ہوں اپنے ساتھ میں چاہے جہاں رہوں کیسا جہاں کہاں کا مکاں کون لا مکاں یعنی اگر کہیں نہ رہوں تو کہاں رہوں اے عشق میرا ہونا نہ ہونا ہے مجھ تلک اب میں نشان کھینچوں کہ میں بے نشاں رہوں کیا ڈھونڈھتا رہوں میں یوں ہی دہر میں ثبات کیا مرگ ناگہاں کے لیے ...

    مزید پڑھیے

    ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا

    ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا یعنی مرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں اور جواب میں مجھ کو ہنسا دیا گیا مجھ کو رلا دیا گیا میرے جنوں کو تھی بہت خواہش سیر و جستجو مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا میں نے کہا کہ زندگی درد دیا گیا مجھے میں ...

    مزید پڑھیے

    سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ

    سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ شور قلم بہت ہے سماعت بحال رکھ زخم تلاش میں ہے نہاں مرہم دلیل تو اپنا دل نہ ہار محبت بحال رکھ نظارہ بے نظارہ ہوا ہے تو کیا ہوا حیرت کی تاب دید کی حسرت بحال رکھ بس میں تو خیر کچھ بھی نہیں ہے ترے مگر بچنا ہے یاسیت سے تو وحشت بحال رکھ مستی و ہوش و جذب ...

    مزید پڑھیے

    یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے

    یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے تھوڑی گزار لیں گے تھوڑا گزر گئی ہے یا موند لیں ہیں آنکھیں یا مند گئیں ہیں آنکھیں تجھ پر پس تماشا کیا کیا گزر گئی ہے ممکن نہیں ہے شاید دونوں کا ساتھ رہنا تیری خبر جب آئی اپنی خبر گئی ہے شور خزاں ہے گھر میں دیوار و بام و در میں در پر سواری کل آ کر ...

    مزید پڑھیے

    اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے

    اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے مرے سوال سے پاگل بنا دیا ہے مجھے کچھ اس طرح سے کہا مجھ سے بیٹھنے کے لیے کہ جیسے بزم سے اس نے اٹھا دیا ہے مجھے نہ خود ہی چین سے بیٹھے نہ مجھ کو بیٹھنے دے مرے خدا نے ستارہ بھی کیا دیا ہے مجھے مری سمائی نہ صحرا میں ہے نہ گھر میں ہے نیا یہ مژدۂ وحشت ...

    مزید پڑھیے

    آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا

    آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا کیا بار بار ایک ہی صورت کو دیکھنا حاصل یہ ہے کہ ایک ہی ہے صفر کا حساب منفی کو دیکھنا کبھی مثبت کو دیکھنا اے وقت تو کہیں بھی کسی کا ہوا ہے کیا کیا تجھ کو دیکھنا تری ساعت کو دیکھنا دانشوران وقت ہوں جب محو گفتگو چپ رہ کے درمیاں مری وحشت کو ...

    مزید پڑھیے

    کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے

    کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے دل جو کھویا ہوا سا رہتا ہے ایک سناہٹے کا سینے میں بھاگنا دوڑنا سا رہتا ہے میں کہیں آؤں میں کہیں جاؤں وقت جیسے رکا سا رہتا ہے صبح کا دل کہیں نہیں لگتا شام کا دم گھٹا سا رہتا ہے دل کے آنے کا دل کے جانے کا ایک دھڑکا لگا سا رہتا ہے اے خلش بول کیا یہی ...

    مزید پڑھیے

    اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا

    اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا جو ہوا ٹھیک ہوا اور تو ہونا کیا تھا مرتے مرتے ہی مرے درد کی لذت کے حریص بے مداوا جو نہ مرتے تو مداوا کیا تھا اف وہ اطراف میں پھیلی ہوئی اشیا کا ہجوم ہائے اس شور میں اک دل کا دھڑکنا کیا تھا بے دلی ہائے نظارہ کہ مجھے یاد نہیں سرسری دیکھا ...

    مزید پڑھیے

    خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم

    خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم یعنی ہر حال کی حالت سے گزر جائیں گے ہم عالم وسعت امکاں نظر آئے گا ہمیں یعنی ہر دوری و قربت سے گزر جائیں گے ہم ختم ہو جائے گی سب کشمکش حرف و عدد یعنی ہر منفی و مثبت سے گزر جائیں گے ہم نہ مکاں ہوگا وجود اور نہ زماں ہوگا عدم یعنی ہر تنگی و وسعت ...

    مزید پڑھیے

    چراغ ہائے تکلف بجھا دیے گئے ہیں

    چراغ ہائے تکلف بجھا دیے گئے ہیں اٹھاؤ جام کہ پردے اٹھا دیے گئے ہیں اب اس کو دید کہیں یا اسے کہیں دیدار ہمارے آگے سے جو ہم ہٹا دیے گئے ہیں اب اس مقام پہ ہے یہ جنوں کہ ہوش نہیں مٹا دیے گئے ہیں یا بنا دیے گئے ہیں یہ راز مرنے سے پہلے تو کھل نہیں سکتا سلا دیے گئے ہیں یا جگا دیے گئے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2