بچھڑ کے ان کے ہم اس احتمال سے بھی گئے
بچھڑ کے ان کے ہم اس احتمال سے بھی گئے بیان غم سے گئے عرض حال سے بھی گئے تھی جن کی یاد سے روشن خیال کی دنیا وہ ایسے روٹھے بساط خیال سے بھی گئے نگاہیں ملنے سے ممکن ہے پیار آ جائے ہم ان کی بزم میں کچھ اس خیال سے بھی گئے انہوں نے آ کے کوئی حال تک نہیں پوچھا بناوٹی ہی سہی اندمال سے بھی ...