موج فتح گڑھی کی غزل

    بچھڑ کے ان کے ہم اس احتمال سے بھی گئے

    بچھڑ کے ان کے ہم اس احتمال سے بھی گئے بیان غم سے گئے عرض حال سے بھی گئے تھی جن کی یاد سے روشن خیال کی دنیا وہ ایسے روٹھے بساط خیال سے بھی گئے نگاہیں ملنے سے ممکن ہے پیار آ جائے ہم ان کی بزم میں کچھ اس خیال سے بھی گئے انہوں نے آ کے کوئی حال تک نہیں پوچھا بناوٹی ہی سہی اندمال سے بھی ...

    مزید پڑھیے

    حال دل سن کے مرا سر بہ گریباں کیوں ہیں

    حال دل سن کے مرا سر بہ گریباں کیوں ہیں جو کیا آپ نے اب اس پہ پشیماں کیوں ہیں مد بھرے نین یہ اور حسن و جوانی کا نکھار آئنہ دیکھ کے آج آپ بھی حیراں کیوں ہیں میری ہر سعیٔ وفا ہو گئی بے کار مگر دل میں پھر بھی مرے بڑھتے ہوئے ارماں کیوں ہیں مری ناکامیوں کا مرثیہ پڑھنے کے بجائے کچھ ...

    مزید پڑھیے

    دل میں بندوں کے بہت خوف خدا تھا پہلے

    دل میں بندوں کے بہت خوف خدا تھا پہلے یہ زمانہ کبھی اتنا نہ برا تھا پہلے رام کے راج کی تصویر تھی اپنی دھرتی مسلک فکر و عمل انس و وفا تھا پہلے ایک انسان سے بے وجہ ہو انسان کو بیر یہ وطیرہ کبھی دیکھا نہ سنا تھا پہلے ہندو و مسلم و عیسائی و سکھ میل سے تھے آپسی پریم کا الفت کا مزا تھا ...

    مزید پڑھیے

    جہاں غم ہے نہ اب کوئی خوشی ہے

    جہاں غم ہے نہ اب کوئی خوشی ہے محبت اس جگہ پر آ گئی ہے جسے دیکھو اسے اپنی پڑی ہے زمانے کی بہت حالت گری ہے مسلسل فکر دنیا فکر عقبیٰ اب ایسی زندگی کیا زندگی ہے میں اپنے دل کی باتیں کہہ رہا ہوں زمانے کے لئے یہ شاعری ہے سکوں ملتا ہے ان کی یاد کر کے علاج تشنگی خود تشنگی ہے دلوں میں ...

    مزید پڑھیے

    جب ہم حدود دیر و حرم سے گزر گئے

    جب ہم حدود دیر و حرم سے گزر گئے ہر سمت ان کا جلوہ عیاں تھا جدھر گئے اس طرح وہ نگاہ کرم آج کر گئے دل کو سرور بادۂ الفت سے بھر گئے وہ ہم کو اپنے دل کے ہی اندر نہاں ملا جس کی تلاش کرتے ہوئے در بدر گئے کچھ اہل ظرف دیکھتے ہیں اس کے نور کو محروم دیدیوں کو بہت دیدہ ور گئے دل لے گیا ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    جذبات کا خاموش اثر دیکھ رہا ہوں

    جذبات کا خاموش اثر دیکھ رہا ہوں بے چین ہے دل آنکھ کو تر دیکھ رہا ہوں خاکستر پروانہ ہے بجھتی ہوئی شمعیں رنگین محبت کی سحر دیکھ رہا ہوں موہوم ہوا جاتا ہے اب مقصد ہستی باطل کو حقیقت پہ زبر دیکھ رہا ہوں چھائے ہیں کچھ اس طرح مرے دیدہ و دل پر ہر سمت وہی ہیں میں جدھر دیکھ رہا ہوں منزل ...

    مزید پڑھیے

    نقش دور ماضی کے ذہن میں ابھرتے ہیں

    نقش دور ماضی کے ذہن میں ابھرتے ہیں بھولی بسری راہوں سے جب کبھی گزرتے ہیں انگ انگ ہنستا ہے زاویے نکھرتے ہیں جب وہ مسکراتے ہیں جب وہ بات کرتے ہیں ہم انہیں پہ جان و دل بھی نثار کرتے ہیں اپنا حال دل جن سے عرض کرتے ڈرتے ہیں اس قدر نہ ہوتا زاں عارضی بلندی پر اڑنے والے طائر کے بال و پر ...

    مزید پڑھیے

    نظروں کا محبت بھرا پیغام بہت ہے

    نظروں کا محبت بھرا پیغام بہت ہے مجبور وفا کے لئے انعام بہت ہے کچھ بادہ و ساغر کی ضرورت نہیں مجھ کو آنکھوں سے چھلکتی مئے گلفام بہت ہے کیا حال ہو کیا جانے شب غم کی سحر کا بیتابیٔ دل آج سر شام بہت ہے توہین محبت ہیں محبت میں یہ شکوے لگتا ہے ابھی حسن طلب خام بہت ہے بے وجہ مجھے بے وفا ...

    مزید پڑھیے

    خوشبو گلوں میں تاروں میں تابندگی نہیں

    خوشبو گلوں میں تاروں میں تابندگی نہیں تم بن کسی بھی شے میں کوئی دل کشی نہیں جب تم نہیں ہو پاس خوشی بھی خوشی نہیں جلتی ہے شمع شمع میں بھی روشنی نہیں الفت میں بھی سکون کی دولت ملی نہیں جیتا تو ہوں ضرور مگر زندگی نہیں وہ کیا سمجھ سکے گا محبت کی عظمتیں جس کو کبھی کسی سے محبت ہوئی ...

    مزید پڑھیے