متین نیازی کی غزل

    کبھی کبھی تو محبت کی زندگی کے لئے

    کبھی کبھی تو محبت کی زندگی کے لئے خود ان کو ہم نے ابھارا ہے برہمی کے لئے کیا ہے کام بڑا زندگی میں اشکوں نے دیے جلائے شب غم میں روشنی کے لئے وہ آج بھی ہیں اسی تیرگی کی منزل میں اجالا مانگ کے لائے جو روشنی کے لئے ادائے جور محبت میں ناگوار نہیں خلوص چاہئے اے دوست برہمی کے لئے یہ ...

    مزید پڑھیے

    تنہا ترا خدا نہیں اے آشنائے راز

    تنہا ترا خدا نہیں اے آشنائے راز تیرا بھی کارساز ہے میرا بھی کارساز کیا کہیے رہ گزار محبت کی داستاں جو دشمن سکوں ہے وہ ہے میرا چارہ ساز اے جان مدعا مری جنت مری حیات تیرا خیال تیری تمنا مری نماز نغمے بھی ہیں پسند مجھے سوز بھی عزیز سرمایۂ وفا ہے مری زندگی کا ساز کیا دن دکھائے ...

    مزید پڑھیے

    خلوص تعمیر ہو جو شامل ستم کا جذبہ برا نہیں ہے

    خلوص تعمیر ہو جو شامل ستم کا جذبہ برا نہیں ہے وفا کریں گے وہ کیا کسی سے جنہیں شعور جفا نہیں ہے تری سمجھ میں نہ آ سکے گی کسی کے اشکوں کی قدر و قیمت ابھی ہے ناآشنائے غم تو ابھی ترا دل دکھا نہیں ہے وفا کی عظمت سے آشنا ہیں کہیں تو روداد غم کہیں کیا تجھے ندامت ہو جس کو سن کر وہ داستان ...

    مزید پڑھیے

    یہی جستجو کا کمال ہے یہی آگہی کی تلاش ہے

    یہی جستجو کا کمال ہے یہی آگہی کی تلاش ہے اسے سمجھو اپنی تلاش تم جو تمہیں کسی کی تلاش ہے یہی آئنہ ہے وہ آئینہ جو لئے ہے جلوۂ آگہی یہ جو شاعری کا شعور ہے یہ پیمبری کی تلاش ہے وہ مسرتوں کا ہجوم کیا جو طواف عشق و طرب کرے وہ خوشی جو اوروں کو دے سکوں مجھے اس خوشی کی تلاش ہے یہ جو ...

    مزید پڑھیے

    تغیرات سے کب ربط گلستاں نہ رہا

    تغیرات سے کب ربط گلستاں نہ رہا بہار آئی تو کیا خطرۂ خزاں نہ رہا جبیں جھکائی تو جنت خرید لی جیسے سمجھ رہے ہیں کہ اب کوئی امتحاں نہ رہا فضا میں گونج رہی ہیں کہانیاں غم کی ہمیں کو حوصلۂ شرح داستاں نہ رہا انہیں تو حشر میں بھی ہے خیال رسوائی ہمیں خوشی ہے کوئی پردہ درمیاں نہ ...

    مزید پڑھیے

    غم انساں کی سجائی ہوئی دنیا ہوں میں

    غم انساں کی سجائی ہوئی دنیا ہوں میں انجمن میرے تصور میں ہے تنہا ہوں میں تپش و درد کے اسرار سے واقف ہوں مگر مجھ کو یہ زعم نہیں ہے کہ مسیحا ہوں میں جانے کیا شے مرے سینے میں بھری ہے ایسی شمع سوزاں کی طرح جلتا پگھلتا ہوں میں نہ کشش ہوں میں زمیں کی نہ ہوں پانی کا اچھال ذرہ اڑتا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    آدمی اور درد سے نا آشنا ممکن نہیں

    آدمی اور درد سے نا آشنا ممکن نہیں عکس سے خالی ہو کوئی آئینہ ممکن نہیں آدمی انسان کامل بن تو سکتا ہے مگر زندگی بھر رہ سکے وہ پارسا ممکن نہیں دو کنارے جیسے دریا کے نہیں ملتے کبھی ہم سے اقدام جفا ان سے وفا! ممکن نہیں کار فرما جب رہے برق نظر آٹھوں پہر شہر بھر میں ہو نہ کوئی حادثہ! ...

    مزید پڑھیے

    ہم جو انساں کے غم اٹھاتے ہیں

    ہم جو انساں کے غم اٹھاتے ہیں خوب کو خوب تر بناتے ہیں زندگی خواب ہی سہی لیکن خواب تعبیر چھوڑ جاتے ہیں بے حقیقت مسرتوں کے لئے زندگی بھر فریب کھاتے ہیں مانگتے ہیں دعائیں جینے کی اور جینا ہی بھول جاتے ہیں سوچی سمجھی وہی تمنائیں روز خاکے نئے بناتے ہیں آپ سے یاد آپ کی اچھی آپ تو ...

    مزید پڑھیے

    ہائے اردو یہ سیاست تری جاگیر کے ساتھ

    ہائے اردو یہ سیاست تری جاگیر کے ساتھ کوئی غالبؔ کا طرفدار کوئی میرؔ کے ساتھ زندگی ایک سفر خوف کی زنجیر کے ساتھ موت اک خواب گراں حشر کی تعبیر کے ساتھ ہر ادا حسن کی محفوظ ہے تاثیر کے ساتھ بولتی چلتی تھرکتی ہوئی تصویر کے ساتھ ضبط کی حد سے گزر کر بھی دعا کرتا ہوں شکوہ بر لب ہوں مگر ...

    مزید پڑھیے