کبھی کبھی تو محبت کی زندگی کے لئے
کبھی کبھی تو محبت کی زندگی کے لئے خود ان کو ہم نے ابھارا ہے برہمی کے لئے کیا ہے کام بڑا زندگی میں اشکوں نے دیے جلائے شب غم میں روشنی کے لئے وہ آج بھی ہیں اسی تیرگی کی منزل میں اجالا مانگ کے لائے جو روشنی کے لئے ادائے جور محبت میں ناگوار نہیں خلوص چاہئے اے دوست برہمی کے لئے یہ ...