میں گھر سے دور اطاق بدن میں رہتا ہوں
میں گھر سے دور اطاق بدن میں رہتا ہوں سواد ہجر کے باب کہن میں رہتا ہوں کہیں تو رہنا ہے جب تک ملا ہے اذن قیام سو حرف و صوت کے شہر سخن میں رہتا ہوں میں عکس ہوں ترے پیراہن گل و مل کا میں ایک رنگ ہوں برگ سمن میں رہتا ہوں کبھی ہوں زلف کی ژولیدگی میں وارفتہ کبھی میں تیری جبیں کی شکن میں ...