Masood Munavvar

مسعود منور

مسعود منور کی غزل

    میں گھر سے دور اطاق بدن میں رہتا ہوں

    میں گھر سے دور اطاق بدن میں رہتا ہوں سواد ہجر کے باب کہن میں رہتا ہوں کہیں تو رہنا ہے جب تک ملا ہے اذن قیام سو حرف و صوت کے شہر سخن میں رہتا ہوں میں عکس ہوں ترے پیراہن گل و مل کا میں ایک رنگ ہوں برگ سمن میں رہتا ہوں کبھی ہوں زلف کی ژولیدگی میں وارفتہ کبھی میں تیری جبیں کی شکن میں ...

    مزید پڑھیے