Masood Munavvar

مسعود منور

مسعود منور کے تمام مواد

1 غزل (Ghazal)

    میں گھر سے دور اطاق بدن میں رہتا ہوں

    میں گھر سے دور اطاق بدن میں رہتا ہوں سواد ہجر کے باب کہن میں رہتا ہوں کہیں تو رہنا ہے جب تک ملا ہے اذن قیام سو حرف و صوت کے شہر سخن میں رہتا ہوں میں عکس ہوں ترے پیراہن گل و مل کا میں ایک رنگ ہوں برگ سمن میں رہتا ہوں کبھی ہوں زلف کی ژولیدگی میں وارفتہ کبھی میں تیری جبیں کی شکن میں ...

    مزید پڑھیے

2 نظم (Nazm)

    سکرات موت میں پانی کا خواب

    یوں مری قبر بنا جیسے شبستان نشاط موت کا جشن منا فرش شبنم پہ بچھا لال گلابوں کی بساط خالی طاقوں پہ سجا زرد شرابوں کے ظروف وا دریچوں پہ بصد ناز و ادا ٹانکنے آ بھینی خوشبو کے دھنک رنگ حریری پردے ابھی کچھ دیر ٹھہر بانو ابھی دف نہ بجا نہ اٹھا سوئی ہوئی کلیوں کے گھونگٹ نہ اٹھا موت اگر ...

    مزید پڑھیے

    چناب ندی کا قصیدہ

    سر شور, چناب اوتار مرے مرے موہن ساگر سیارے تری گھوکر جیون کا سرگم تری لہر لہر برہم برہم جب اتروں کھول کے پیراہن ترے پانی گلے ملیں مجھ سے تری ٹھنڈک سینے ساون کے تری مہک محبت کی برکھا ترے جل تھل جل تھل منظر سے مری رانوں میں گدگدی سی ہو مرے تلووں میں دو پھول کھلیں مرے سوہن ساگر ...

    مزید پڑھیے