Marghoob Asar Fatmi

مرغوب اثر فاطمی

مرغوب اثر فاطمی کی غزل

    وفا کی شمع جلاؤ کہ ہم غزل کہہ لیں

    وفا کی شمع جلاؤ کہ ہم غزل کہہ لیں اداس رات ہے آؤ کہ ہم غزل کہہ لیں کسی کے ساتھ گزارے ہوئے حسیں لمحو تم آج یاد تو آؤ کہ ہم غزل کہہ لیں بکھیرے جاؤ فضاؤں میں آج تم نغمے سناؤ گیت سناؤ کہ ہم غزل کہہ لیں تمہارے حسن کا چرچا ہے چاند تاروں میں کبھی زمین پہ آؤ کہ ہم غزل کہہ لیں کسی کی یاد ...

    مزید پڑھیے

    دل کی دنیا میں تجھے لا کے میں حیراں کر دوں

    دل کی دنیا میں تجھے لا کے میں حیراں کر دوں آ تجھے درد محبت سے فروزاں کر دوں چند لمحے جو میسر ہوں سکوں کے مجھ کو راہ نکلے تو ہر اک درد کا درماں کر دوں انقلابات وہی ہیں کہ جو یکسر ابھریں گر ہو تخریب غدر نام میں چسپاں کر دوں اس کے گھر جاؤں رہی جس سے عداوت برسوں تھوڑی تکلیف سہی اس ...

    مزید پڑھیے

    وہ کاش وقت کے پہرے کو توڑ کر آتے

    وہ کاش وقت کے پہرے کو توڑ کر آتے جو محو خواب ہیں ان کو جھنجھوڑ کر آتے نہ اٹھتی کوئی نگاہ غلط سر محفل وہ اپنے جلوے کو گھر اپنے چھوڑ کر آتے اداس آنکھوں کو دیکھا تو یہ خیال آیا چمن کے پھولوں سے شبنم نچوڑ کر آتے عصائے موسیٰ کبھی ہاتھ لگ گیا ہوتا فرعون وقت کا سر ہم بھی پھوڑ کر ...

    مزید پڑھیے

    ان کے رخ پر جمال ہے گویا

    ان کے رخ پر جمال ہے گویا عشق کا سب کمال ہے گویا تیرے لائق نہیں کوئی تشبیہ سادگی بے مثال ہے گویا بات سچ تھی انہیں گراں گزری راست گوئی محال ہے گویا سب کو دتکارا اب مری باری مجھ پہ بھی کچھ خیال ہے گویا کچھ نہ سمجھے کہ کیا ہے یہ دنیا ایک مکڑی کا جال ہے گویا گرمئ عشق ہند سے ...

    مزید پڑھیے

    اب کوئی حجت نہیں اقرار کو انکار سے

    اب کوئی حجت نہیں اقرار کو انکار سے عشق نے پالی فراغت حسن کی سرکار سے اس ادائے بے نیازی پر ہے حیراں آنکھ بھی آ گئے دل میں مگر پوچھا نہ پہرے دار سے گرد آلودہ تھیں آنکھیں انتظار دوست میں دھل رہی ہیں وصل میں وہ آنسوؤں کی دھار سے واپسی ہوگی وہیں پر اس کا اندازہ نہ تھا ناچتا ننگا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2