Marghoob Asar Fatmi

مرغوب اثر فاطمی

مرغوب اثر فاطمی کی غزل

    بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں

    بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں وبال جان ہے ڈر خاتمہ ہی کر ڈالیں قبولیت کو سنا ہے کہ ضد دعا سے ہے تو کیوں نہ ایسا کریں بد دعا ہی کر ڈالیں کھسکتے لمحوں سے یہ زندگی نے پوچھ لیا حقیر ہم ہیں کہ تم فیصلہ ہی کر ڈالیں نشاط و کیف کے سامان عن قریب کہاں اب اختصار صف مدعا ہی کر ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو مسحور تھے شدت کے سبب بول اٹھے

    ہم تو مسحور تھے شدت کے سبب بول اٹھے وہ بت سنگ بھی ممکن ہے کہ اب بول اٹھے پھول الفاظ کے پھینکے ہیں اسی کی جانب جانے وہ جان ادا ناز سے کب بول اٹھے سامنا ان کا ہوا جب تو تھی نظریں نیچی بے قراری میں مرے دست طلب بول اٹھے قتل میرا بھی ہوا اور شہ وقت کا بھی اک پہ خاموش رہے ایک پہ سب بول ...

    مزید پڑھیے

    درمیاں آ رہی ہے نفرت کیوں

    درمیاں آ رہی ہے نفرت کیوں جب گلے مل گئے شکایت کیوں آدمی تم بھی آدمی ہم بھی پھر ہوئی ختم آدمیت کیوں ہو گیا عشق آپ کو شاید عمر اس میں نئی مصیبت کیوں کون رکھ پایا مال و دولت کو جانے والے سے یہ محبت کیوں تھک گیا ہے مرا ستم گر کیا سانس لے لینے کی اجازت کیوں سب کی مائیں بھی بیٹیاں ...

    مزید پڑھیے

    نہ کوئی در نہ دریچہ مگر مکان تو ہے

    نہ کوئی در نہ دریچہ مگر مکان تو ہے زمیں ہے زیر قدم سر پہ آسمان تو ہے ہزار جلووں کا تو رازداں ہے آئینہ ہوئی نہ آنکھ میسر تجھے زبان تو ہے بدلتا رہتا ہے رنگ آسمان لمحوں میں ستم شعار ابھی مجھ سے خوش گمان تو ہے غم حیات سے گھبرا کے تجربے کے لئے چلے ہی جائیں گے اب دوسرا جہاں تو ہے تمام ...

    مزید پڑھیے

    حریم ناز سے آتا ہے بہرہ ور کوئی

    حریم ناز سے آتا ہے بہرہ ور کوئی دل آئینہ پہ لیے نقش فی الحجر کوئی حصار درد کی اونچائی بڑھتی جاتی ہے خوشی کی آندھیاں آ کر بنائیں در کوئی پڑا ہے یادوں کے حجرے میں قفل مدت سے ہنوز دیتا ہے دستک سی معتبر کوئی چمکتی راہ تو نظروں سے ہے ابھی اوجھل چراغ چرخ کی ملتی نہیں خبر کوئی یہ ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں کو اشک بار کیا ہے کبھی کبھی

    آنکھوں کو اشک بار کیا ہے کبھی کبھی یوں تیرا انتظار کیا ہے کبھی کبھی محشر کو درکنار کیا ہے کبھی کبھی تجھ پر جو اعتبار کیا ہے کبھی کبھی خون جگر سے ہم نے گلوں کو نکھار کر گلشن کو پر بہار کیا ہے کبھی کبھی اس آستانہ ناز سے نفرت بھی کی مگر سجدہ بھی بار بار کیا ہے کبھی کبھی ہم نے ...

    مزید پڑھیے

    ہے جتنا ظرف مرا اتنا ہی صلہ دینا

    ہے جتنا ظرف مرا اتنا ہی صلہ دینا نہ اور کچھ تو امیدوں کا سلسلہ دینا مری تو عرض تمنا ہے قدرے پیچیدہ جواب دینا ہو مشکل تو مسکرا دینا کسی غریب کی دل جوئی بھی عبادت ہے ہے نیک کام کسی روتے کو ہنسا دینا کچھ اس قدر ہوئی کمزور ڈور رشتوں کی ہے ایک معجزہ ٹوٹے سرے ملا دینا تمہارا فرض ہے ...

    مزید پڑھیے

    کسی کو درد سنانا بھی کتنا مشکل تھا

    کسی کو درد سنانا بھی کتنا مشکل تھا مذاق اپنا اڑانا بھی کتنا مشکل تھا حقیقتوں پہ حسیں پردہ ڈالنے کے لیے فسوں کا جال بچھانا بھی کتنا مشکل تھا کبھی رہا تھا جن آنکھوں کا بن کے سرمہ میں انہیں سے آنکھ چرانا بھی کتنا مشکل تھا وہ لن ترانی میں تھا محو آنکھ بند کئے سو اس کو شیشہ دکھانا ...

    مزید پڑھیے

    مذہب عشق کے عرفان پہ حیراں نکلا

    مذہب عشق کے عرفان پہ حیراں نکلا قیس جب دشت کو نکلا تو پریشاں نکلا شدت شوق میں سرمست و شاداں نکلا غم رسیدہ بھی اگر تھا تو غزل خواں نکلا ان سے ملنے کی تمنا لیے ڈرتا ہی رہا دل یہ کافر مرا در پردہ مسلماں نکلا شام آئی تو لب لعلیں کی شوخی لے کر مہر بکھراتے ہوئے لعل بدخشاں نکلا جب کہ ...

    مزید پڑھیے

    کھیتوں کے بیچ پھول کے بستر کے آس پاس

    کھیتوں کے بیچ پھول کے بستر کے آس پاس موسم تو آ کے بیٹھ مرے گھر کے آس پاس بے قید و بند کوندتی رنگین مچھلیاں دیکھی ہیں میں نے گاؤں کے پوکھر کے آس پاس یہ کیا ہوا کہ آج بہت تیز دھوپ ہے سایہ ملا نہ شاخ تناور کے آس پاس سرسوں کے کشت زار میں ایسا لگا کہ ہوں فطرت کی چھینٹ دار سی چادر کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2