بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں
بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں وبال جان ہے ڈر خاتمہ ہی کر ڈالیں قبولیت کو سنا ہے کہ ضد دعا سے ہے تو کیوں نہ ایسا کریں بد دعا ہی کر ڈالیں کھسکتے لمحوں سے یہ زندگی نے پوچھ لیا حقیر ہم ہیں کہ تم فیصلہ ہی کر ڈالیں نشاط و کیف کے سامان عن قریب کہاں اب اختصار صف مدعا ہی کر ...