مرغوب علی کی غزل

    کچے رنگ اتر جائیں تو سب کچھ یوں ہی لگتا ہے

    کچے رنگ اتر جائیں تو سب کچھ یوں ہی لگتا ہے سارے خواب بکھر جائیں تو سب کچھ یوں ہی لگتا ہے ریت کا ڈھیر نظر آتے ہیں شہر کے سارے پختہ گھر چیخوں سے دل ڈر جائیں تو سب کچھ یوں ہی لگتا ہے تلووں میں سینے کی دھڑکن ہونٹوں پر مدت کی پیاس جب ہم ''جان نگر'' جائیں تو سب کچھ یوں ہی لگتا ہے بھیگے ...

    مزید پڑھیے

    عجیب طرز تخاطب روا ہوا اب کے

    عجیب طرز تخاطب روا ہوا اب کے خلوص لہجوں سے یکسر جدا ہوا اب کے گذشتہ رت کی طرح عہد مت بھلا دینا پکارتا ہے یہ کمرہ سجا ہوا اب کے ہمیں تو یاد بہت آیا موسم گل میں وہ سرخ پھول سا چہرہ کھلا ہوا اب کے ٹھہر، ٹھہر کے گزرتا ہے زرد موسم بھی ہمیں تو جینا بھی جیسے سزا ہوا اب کے نہ پھول مہکے ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو گم ہو گئے حالات کے سناٹے میں

    ہم تو گم ہو گئے حالات کے سناٹے میں ہم نے کچھ بھی نہ سنا رات کے سناٹے میں حرف ناکام جہاں ہوتے ہیں ان لمحوں میں پھول کھلتے ہیں بہت بات کے سناٹے میں شور ہنگامہ صدا طبل و علم نقارے ڈوب جاتے ہیں سبھی مات کے سناٹے میں رات پڑتے ہی ہر اک روز ابھر آتی ہے کس کے رونے کی صدا ذات کے سناٹے ...

    مزید پڑھیے

    اڑتے ہوئے پرندوں کے شہ پر سمیٹ لوں

    اڑتے ہوئے پرندوں کے شہ پر سمیٹ لوں جی چاہتا ہے شام کے منظر سمیٹ لوں لب پر اگاؤں اس کے دھنک پھول قہقہے آنکھوں میں اس کی پھیلا سمندر سمیٹ لوں پہلے ملن کا پھول کھلے روح میں تری باہوں میں تجھ کو لے کے ترے ڈر سمیٹ لوں ممکن نہیں ہے پھر بھی میں یہ چاہتا ہوں کیوں اخبار پر سلگتے ہوئے گھر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2