مرغوب علی کی غزل

    عجیب شخص ہے کیسی یہ جستجو ہے اسے

    عجیب شخص ہے کیسی یہ جستجو ہے اسے پلک سے خار اٹھانے کی آرزو ہے اسے وہ خواہشوں کے دیے ہر قدم جلاتا ہے تلاش کون سے چہرے کی چار سو ہے اسے وہ طاق طاق جو یادوں کے پھول رکھتا ہے یہ کس جنون کی دیوار روبرو ہے اسے زمانے بھر کے ستارے ہیں آنکھ کے آگے بس ایک نام ہی کیوں حرف گفتگو ہے اسے کیوں ...

    مزید پڑھیے

    یقیں گم ہو چکا ہم سے گماں محفوظ رکھا ہے

    یقیں گم ہو چکا ہم سے گماں محفوظ رکھا ہے خیال و خواب سا رنگیں جہاں محفوظ رکھا ہے ہوا مسمار سب لیکن جہاں تم گھر بناتے تھے وہ دل کا ایک ٹکڑا جان جاں محفوظ رکھا ہے شکستہ ہو چکے جل بجھ چکے تاریخ شاہد ہے فضاؤں میں مگر اب تک دھواں محفوظ رکھا ہے زمیں پر جو بھی ممکن تھا وہ سب کچھ کر لیا ...

    مزید پڑھیے

    گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو

    گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو اور ہوں سقراط تو لا زہر پلا دے مجھ کو وصل کا گل نہ سہی ہجر کا کانٹا ہی سہی کچھ نہ کچھ تو مری وحشت کا صلہ دے مجھ کو کب تلک اور جلوں آگ میں تنہائی کی زندگی اب یہی بہتر ہے بجھا دے مجھ کو تھرتھراتی ہوئی پلکوں پہ سجانے والے اشک بے کار کی مانند گرا ...

    مزید پڑھیے

    اگر پھر شہر میں وہ خوش ادا واپس پلٹ آئے

    اگر پھر شہر میں وہ خوش ادا واپس پلٹ آئے ملاقاتوں کا شاید سلسلہ واپس پلٹ آئے میں اس کو بھول جاؤں رات یہ مانگی دعا میں نے کروں کیا میں اگر میری دعا واپس پلٹ آئے گزرتا ہی نہیں موسم جدائی کے دیاروں کا ملن رت کے کناروں سے ہوا واپس پلٹ آئے وہ اب ان راستوں پر ہے جہاں بس پھول کھلتے ...

    مزید پڑھیے

    مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن

    مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن وہ میرے تصور کی ملاقات کسی دن احباب نے اک شخص تراشا ہے عجب سا اس کو بھی یہاں لائیں گے ہم ساتھ کسی دن خوابوں کے بہت پھول مہکتے ہیں لبوں پر تعبیر کی ہو جائے کوئی بات کسی دن وہ آنکھ جو صحرا کی طرح ہے یک و تنہا اس راہ میں رکھ دو کوئی برسات کسی دن بے خوف ...

    مزید پڑھیے

    دھندلے دھندلے پیڑ اگتی شام کی سرگوشیاں

    دھندلے دھندلے پیڑ اگتی شام کی سرگوشیاں جو ہے شہ رگ کے قریں اس نام کی سرگوشیاں جب بھی سوچا سر اٹھا کر اب جئیں گے کچھ دنوں گھیر لیتی ہیں ہمیں انجام کی سرگوشیاں پھر گلی کوچوں میں سناٹوں کا شاید رقص ہو بانٹتے ہیں لوگ اک پیغام کی سرگوشیاں کیوں قبیلے میں بہت سے لوگ بد ظن ہو گئے چاند ...

    مزید پڑھیے

    دن گزر جاتا ہے پر رات سے جی ڈرتا ہے

    دن گزر جاتا ہے پر رات سے جی ڈرتا ہے چھت شکستہ ہو تو برسات سے جی ڈرتا ہے پھول شاخوں پہ بھی مرجھا کے بکھر جاتے ہیں تو ہو گر ساتھ ترے ساتھ سے جی ڈرتا ہے آبگینے میں تعلق کے نہ بال آئے کہیں بات کرتے ہوئے ہر بات سے جی ڈرتا ہے چاندنی راتیں نہ آئیں یہ دعا کرتا ہوں اب تو گزرے ہوئے لمحات سے ...

    مزید پڑھیے

    پلکوں پر موتی رکھے ہیں سوچوں پر سناٹا ہے

    پلکوں پر موتی رکھے ہیں سوچوں پر سناٹا ہے تعبیروں کا شور بہت ہے خوابوں پر سناٹا ہے آنکھوں سے باتیں کرنے کا موسم ہے خاموش رہو اور تو سب کچھ جائز ہے یاں لفظوں پر سناٹا ہے دن تو خیر گزارے ہم نے ہنس کر بھی چپ رہ کر بھی لیکن جب سے بچھڑے ہیں تم سے راتوں پر سناٹا ہے شاید اب موسم کے پنچھی ...

    مزید پڑھیے

    جو جاں سے ہے عزیز اسے تو جدا بھی رکھ

    جو جاں سے ہے عزیز اسے تو جدا بھی رکھ خوشیوں کے منہ میں درد بھرا ذائقہ بھی رکھ ہر راستہ کہیں نہ کہیں مڑ ہی جائے گا رشتوں کے بیچ تھوڑا بہت فاصلہ بھی رکھ یوں بھی نہ ہو کہ جو بھی اٹھے تجھ میں جھانک لے خود میں نہ یوں سمٹ کوئی درد آشنا بھی رکھ ایسا نہ ہو کہ تازہ ہوا اجنبی لگے کمرے کا ...

    مزید پڑھیے

    سلوک دیکھ لیا بے ہنر ہواؤں کا

    سلوک دیکھ لیا بے ہنر ہواؤں کا ہر ایک شاخ ہے منظر اداس راہوں کا وہ چاند بن کے مری رات پر اترتا ہے تو کیسے یاد رکھوں رنگ پھر قباؤں کا نہ کوئی نظم ہی لکھی نہ تجھ سے بات ہوئی یہ پورا سال ہی ٹھہرا مجھے سزاؤں کا طلب رہے تو مہکتے ہیں چاہتوں کے پھول طلب مٹے تو صلہ کیسا پھر وفاؤں کا نہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2