Manzoor Hashmi

منظور ہاشمی

منظور ہاشمی کی غزل

    نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے

    نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے ہوا اک راز رہنا چاہتی ہے نہ جانے کیا سمائی ہے کہ اب کی ندی ہر سمت بہنا چاہتی ہے سلگتی راہ بھی وحشت نے چن لی سفر بھی پا برہنہ چاہتی ہے تعلق کی عجب دیوانگی ہے اب اس کے دکھ بھی سہنا چاہتی ہے اجالے کی دعاؤں کی چمک بھی چراغ شب میں رہنا چاہتی ہے بھنور میں ...

    مزید پڑھیے

    یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

    یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے سفر میں اب کے یہ تم تھے کہ خوش گمانی تھی یہی لگا کہ کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے غلاف گل میں کبھی چاندنی کے پردے میں سنا ہے بھیس بدل کر بھی وہ نکلتا ہے لکھوں وہ نام تو کاغذ پہ پھول کھلتے ہیں کروں خیال تو پیکر کسی کا ڈھلتا ...

    مزید پڑھیے

    نئی زمیں نہ کوئی آسمان مانگتے ہیں

    نئی زمیں نہ کوئی آسمان مانگتے ہیں بس ایک گوشۂ امن و امان مانگتے ہیں کچھ اب کے دھوپ کا ایسا مزاج بگڑا ہے درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں ہمیں بھی آپ سے اک بات عرض کرنا ہے پر اپنی جان کی پہلے امان مانگتے ہیں قبول کیسے کروں ان کا فیصلہ کہ یہ لوگ مرے خلاف ہی میرا بیان مانگتے ...

    مزید پڑھیے

    وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں

    وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں تو حرف حرف کو حسن تمام کرتے ہیں گھنے درختوں کے سائے کی عمر لمبی ہو کہ ان کے نیچے مسافر قیام کرتے ہیں اسے پسند نہیں خواب کا حوالہ بھی تو ہم بھی آنکھ پہ نیندیں حرام کرتے ہیں نہ خوشبوؤں کو پتہ ہے نہ رنگ جانتے ہیں پرند پھولوں سے کیسے کلام کرتے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی پوچھے تو نہ کہنا کہ ابھی زندہ ہوں

    کوئی پوچھے تو نہ کہنا کہ ابھی زندہ ہوں وقت کی کوکھ میں اک لمحۂ آئندہ ہوں زندگی کتنی حسیں کتنی بڑی نعمت ہے آہ میں ہوں کہ اسے پا کے بھی شرمندہ ہوں کیا ادا ہونے کو ہے سنت ابراہیمی آگ ہی آگ ہے ہر سمت مگر زندہ ہوں زندگی تو جو سنے گی تو ہنسی آئے گی میں سمجھتا ہوں کہ میں تیرا نمائندہ ...

    مزید پڑھیے

    جو کھلی چمن میں نئی کلی تو وہ جشن صوت و صدا ہوا

    جو کھلی چمن میں نئی کلی تو وہ جشن صوت و صدا ہوا کہیں بلبلیں ہوئیں نغمہ زن کہیں رقص باد صبا ہوا کوئی پھول خوشبو سے چور سا کوئی رنگ حلقہ نور سا کوئی حسن غیرت حور سا ترے نام سارا لکھا ہوا وہ بچھڑ گیا تو پتہ چلا کہ تھا سخت کتنا یہ حادثہ گیا نور جیسے چراغ کا کہ بدن سے عکس جدا ہوا جو ...

    مزید پڑھیے

    سر پر تھی کڑی دھوپ بس اتنا ہی نہیں تھا

    سر پر تھی کڑی دھوپ بس اتنا ہی نہیں تھا اس شہر کے پیڑوں میں تو سایا ہی نہیں تھا پانی میں ذرا دیر کو ہلچل تو ہوئی تھی پھر یوں تھا کہ جیسے کوئی ڈوبا ہی نہیں تھا لکھے تھے سفر پاؤں میں کس طرح ٹھہرتے اور یہ بھی کہ تم نے تو پکارا ہی نہیں تھا اپنی ہی نگاہوں پہ بھروسہ نہ رہے گا تم اتنا بدل ...

    مزید پڑھیے

    رسم ہی نیند کی آنکھوں سے اٹھا دی گئی کیا

    رسم ہی نیند کی آنکھوں سے اٹھا دی گئی کیا یا مرے خواب کی تعبیر بتا دی گئی کیا آسماں آج ستاروں سے بھی خالی کیوں ہے دولت گریۂ جاں رات لٹا دی گئی کیا وہ جو دیوار تھی اک عشق و ہوس کے مابین موسم شوق میں اس بار گرا دی گئی کیا اب تو اس کھیل میں کچھ اور مزا آنے لگا جان بھی داؤ پہ اس بار ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2