Manzoor Hashmi

منظور ہاشمی

منظور ہاشمی کی غزل

    شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا

    شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا لفظ خود اپنا گلا گھونٹ کے مر جائے گا تیز رفتار ہواؤں کو یہ احساس کہاں شاخ سے ٹوٹے گا پتا تو کدھر جائے گا یہ چمکتا ہوا سورج بھی مری شام کے بعد رات کے گہرے سمندر میں اتر جائے گا صرف اک گھر کو ڈبونا ہی نہیں کام اس کا اب یہ سیلاب کسی اور کے گھر جائے ...

    مزید پڑھیے

    کسی بہانے سہی دل لہو تو ہونا ہے

    کسی بہانے سہی دل لہو تو ہونا ہے اس امتحاں میں مگر سرخ رو تو ہونا ہے ہمارے پاس بشارت ہے سبز موسم کی یقیں کی فصل لگائیں نمو تو ہونا ہے میں اس کے بارے میں اتنا زیادہ سوچتا ہوں کہ ایک روز اسے روبرو تو ہونا ہے لہولہان رہیں ہم کہ شاد کام رہیں شریک قافلۂ رنگ و بو تو ہونا ہے کوئی کہانی ...

    مزید پڑھیے

    طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا

    طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا تو کاروان صدا بھی پلٹ کے آئے گا کھنچی رہیں گی سروں پر اگر یہ تلواریں متاع زیست کا احساس بڑھتا جائے گا ہوائیں لے کے اڑیں گی تو برگ آوارہ نشان کتنے نئے راستوں کا پائے گا میں اپنے قتل پہ چیخا تو دور دور تلک سکوت دشت میں اک ارتعاش آئے گا کواڑ اپنے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ خیال دل ناشاد تو کر لینا تھا

    کچھ خیال دل ناشاد تو کر لینا تھا وہ نہیں تھا تو اسے یاد تو کر لینا تھا کچھ اڑانوں کے لیے اپنے پروں کو پہلے جنبش و جست سے آزاد تو کر لینا تھا پھر ذرا دیکھتے تاثیر کسے کہتے ہیں دل کو بھی شامل فریاد تو کر لینا تھا کوئی تعمیر کی صورت بھی نکل ہی آتی پہلے اس شہر کو برباد تو کر لینا ...

    مزید پڑھیے

    نہیں تھا کوئی ستارا ترے برابر بھی

    نہیں تھا کوئی ستارا ترے برابر بھی ہوا غروب ترے ساتھ تیرا منظر بھی پگھلتے دیکھ رہے تھے زمیں پہ شعلے کو رواں تھا آنکھ سے اشکوں کا اک سمندر بھی کہیں وہ لفظ میں زندہ کہیں وہ یادوں میں وہ بجھ چکا ہے مگر ہے ابھی منور بھی عجب گھلاوٹیں شہد و نمک کی نطق میں تھی وہی سخن کہ تھا مرہم بھی ...

    مزید پڑھیے

    بدن کو زخم کریں خاک کو لبادہ کریں

    بدن کو زخم کریں خاک کو لبادہ کریں جنوں کی بھولی ہوئی رسم کا اعادہ کریں تمام اگلے زمانوں کو یہ اجازت ہے ہمارے عہد گزشتہ سے استفادہ کریں انہیں اگر مری وحشت کو آزمانا ہے زمیں کو سخت کریں دشت کو کشادہ کریں چلو لہو بھی چراغوں کی نذر کر دیں گے یہ شرط ہے کہ وہ پھر روشنی زیادہ ...

    مزید پڑھیے

    لٹا دئیے تھے کبھی جو خزانے ڈھونڈھتے ہیں

    لٹا دئیے تھے کبھی جو خزانے ڈھونڈھتے ہیں نئے زمانے میں کچھ دن پرانے ڈھونڈھتے ہیں کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے میں وہ لمحہ ہوں کہ اک زمانے سے جس کو زمانے ڈھونڈھتے ہیں کچھ احتیاط بھی اب کے طلب میں رکھنا پڑی سو اس کو اور کسی کے بہانے ڈھونڈھتے ہیں لپک کے آتے ہیں سینے کی سمت تیر ایسے پرند ...

    مزید پڑھیے

    فوج کی آخری صف ہو جاؤں

    فوج کی آخری صف ہو جاؤں اور پھر اس کی طرف ہو جاؤں تیر کوئی ہو کماں کوئی ہو چاہتے ہیں کہ ہدف ہو جاؤں اک زمانہ ہے ہواؤں کی طرف میں چراغوں کی طرف ہو جاؤں اشک اس آنکھ میں آئے نہ کبھی اور ٹپکے تو صدف ہو جاؤں عہد نو کا نہ سہی گزراں کا باعث عز و شرف ہو جاؤں

    مزید پڑھیے

    راستہ سمندر کا جب رکا ہوا پایا

    راستہ سمندر کا جب رکا ہوا پایا اور بھی کناروں کو کاٹتا ہوا پایا دیر تک ہنسا تھا میں دوستوں کی محفل میں لوٹ کر نہ جانے کیوں دل دکھا ہوا پایا دھوپ نے ٹٹولا جب منجمد چٹانوں کو برف کے تلے لاوا کھولتا ہوا پایا سوچیے کہیں گے کیا لوگ ایسے موسم کو جس میں سبز شاخوں کو سوکھتا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    خیال و شوق کو جب ہم تری تصویر کرتے ہیں

    خیال و شوق کو جب ہم تری تصویر کرتے ہیں تو دل کو آئینہ اور آنکھ کو تنویر کرتے ہیں نظر کے سامنے جتنا علاقہ ہے وہ دل کا ہے تو اس کی بے دلی کے نام یہ جاگیر کرتے ہیں ہوا مسمار بھی کر دے اگر شہر تمنا کو پھر اس ملبے سے قصر آرزو تعمیر کرتے ہیں ہوائیں پڑھ کے اپنے نام کے خط جھوم جاتی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2