Manzar Ayubi

منظر ایوبی

منظر ایوبی کی غزل

    وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں

    وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں اب اس عذاب شب و روز سے بچاؤ ہمیں کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے نمود صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں نہیں ہے خون شہیداں کی کوئی قدر یہاں لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ ہمیں تمام عمر کا سودا ہے ایک پل کا نہیں بہت ہی سوچ سمجھ کر گلے لگاؤ ...

    مزید پڑھیے

    یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور

    یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور خود بھی نہ رہ سکے مگر آپ جو ہم سے دور دور دیر و حرم کی نفرتیں لوٹ چکیں نشاط زیست راہروان راہ نو دیر و حرم سے دور دور اہل جہاں سے کیا ہمیں صرف ملال اس کا ہے آپ بھی ہم سے بد گماں آپ بھی ہم سے دور دور میرا مذاق بندگی توڑ چکا ہے روایتیں آج جبیں ہے ...

    مزید پڑھیے

    یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے

    یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے جو فقیر تھا وہ امیر ہے جو امیر تھا وہ فقیر ہے مری خواہشوں کی بساط پر یہ جو ایک سرخ لکیر ہے یہی اک لکیر تو اصل میں نئے موسموں کی سفیر ہے نہ وہ سر زمیں نہ وہ آسماں مگر آج بھی سر دشت جاں وہی ہاتھ ہے وہی مشک ہے وہی پیاس ہے وہی تیر ہے کسی لب پہ ...

    مزید پڑھیے

    مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو

    مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو ماورائے رسن و دار نہیں دیوانو کیا کرو گے دل پر خوں کی حکایت سن کر یہ حدیث لب و رخسار نہیں دیوانو آج کیوں پند گر وقت کی تقریروں میں لذت شوخئ گفتار نہیں دیوانو خاکۂ ذہن پہ ابھرے تو کوئی نقش جمیل بند دروازۂ انکار نہیں دیوانو کیا کرو گے مہ و انجم ...

    مزید پڑھیے

    اس طرح کبھی راندۂ‌ دربار نہیں تھے

    اس طرح کبھی راندۂ‌ دربار نہیں تھے رسوا تھے مگر یوں سر بازار نہیں تھے صحرا میں لئے پھرتی ہے دیوانگئ شوق کیا شہر میں تیرے در و دیوار نہیں تھے وہ دن گئے جب منزل جاناں کے مسافر رہرو تھے فقط قافلہ سالار نہیں تھے ہے جرأت گفتار تو پھر سامنے آ کر کہہ دیجیے ہم لوگ وفادار نہیں تھے کیوں ...

    مزید پڑھیے

    شہر کا شہر حریف‌ لب و رخسار ملا

    شہر کا شہر حریف‌ لب و رخسار ملا نام میرا ہی لکھا کیوں سر دیوار ملا سوچتے سوچتے دھندلا گئے یادوں کے نقوش فکر کو میرے نہ اب تک لب اظہار ملا مشتہر کر دیا اتنا تری چاہت نے مجھے نام گھر گھر میں مرا صورت اخبار ملا جس کی قربت کو ترستا تھا زمانہ کل تک آج وہ شخص اکیلا سر بازار ملا میری ...

    مزید پڑھیے