وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں
وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں اب اس عذاب شب و روز سے بچاؤ ہمیں کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے نمود صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں نہیں ہے خون شہیداں کی کوئی قدر یہاں لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ ہمیں تمام عمر کا سودا ہے ایک پل کا نہیں بہت ہی سوچ سمجھ کر گلے لگاؤ ...