شاہ والا
ہم تو یوں بھی باج گزار تھے صدیوں کے ہم تو کتنی ہی نسلوں سے آپ کی کتنی ہی نسلوں کو حق نمک میں اپنے ایمان اور انا کا نذرانہ دیتے آئے تھے ہم نے تو اپنے حصے میں محل سرا کے پچھواڑے کی دھول چنی تھی اور راہوں میں اڑنے والے کچھ تنکے بھی جن سے گھونسلے بن سکتے تھے محل سرا کو ان تنکوں سے کیا ...