Mansoor Ahmad

منصور احمد

منصور احمد کی نظم

    شاہ والا

    ہم تو یوں بھی باج گزار تھے صدیوں کے ہم تو کتنی ہی نسلوں سے آپ کی کتنی ہی نسلوں کو حق نمک میں اپنے ایمان اور انا کا نذرانہ دیتے آئے تھے ہم نے تو اپنے حصے میں محل سرا کے پچھواڑے کی دھول چنی تھی اور راہوں میں اڑنے والے کچھ تنکے بھی جن سے گھونسلے بن سکتے تھے محل سرا کو ان تنکوں سے کیا ...

    مزید پڑھیے

    معذرت

    میرے خواب گھروندے میں میرے ساتھ ہیں مردہ لمحوں کے بے رت باسی کلینڈر گزری کل کے بھیگے بھیگے سے پچھتاوے آنے والی کل کے بے کل سے اندیشے سوکھے پھولوں کی ٹہنی پر پت جھڑ کے جھونکوں سے اڑتی بے گھر تتلی پیلے پتوں کی مرجھائی بیل سے لپٹی سہمی چڑیا اس کی آنکھوں کے گہرے ویران سمندر کمرے کے ...

    مزید پڑھیے