میں ہوں اور سلسلۂ اشک رواں آج کی رات
میں ہوں اور سلسلۂ اشک رواں آج کی رات زندگی ہے ہمہ تن سوز بجاں آج کی رات دیدۂ شوق میں ہے رقص کناں آج کی رات غم کی بجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں آج کی رات اپنی پلکوں پہ لرزتے ہوئے تاروں کی قسم سب کے ہونٹوں پہ ہے فریاد و فغاں آج کی رات ہیں کہاں آہ وہ حوران تصور جن سے دل تھا غیرت دہ ...