Malikzaada Manzoor Ahmad

ملک زادہ منظور احمد

اردو کی ممتازادبی شخصیت۔ مشاعروں کی معیار نظامت کے لئے مشہور

Famous Urdu personality. Most well-known Mushaira compere and orator.

ملک زادہ منظور احمد کے تمام مواد

19 غزل (Ghazal)

    میں ہوں اور سلسلۂ اشک رواں آج کی رات

    میں ہوں اور سلسلۂ اشک رواں آج کی رات زندگی ہے ہمہ تن سوز بجاں آج کی رات دیدۂ شوق میں ہے رقص کناں آج کی رات غم کی بجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں آج کی رات اپنی پلکوں پہ لرزتے ہوئے تاروں کی قسم سب کے ہونٹوں پہ ہے فریاد و فغاں آج کی رات ہیں کہاں آہ وہ حوران تصور جن سے دل تھا غیرت دہ ...

    مزید پڑھیے

    تشنہ لبی نے جب بھی ذوق عمل دیا ہے

    تشنہ لبی نے جب بھی ذوق عمل دیا ہے رندوں نے میکدے کا ساقی بدل دیا ہے دنیا ہے اس کی شاہد اس شہر بے اماں نے جس میں انا سمائی وہ سر کچل دیا ہے کھلتے رہے ہیں جو گل باد خزاں کی شہ پر دست صبا نے بڑھ کر ان کو مسل دیا ہے سب نے سنی ہے جس میں عصر رواں کی دھڑکن منظورؔ ہم نے ایسا ساز غزل دیا ہے

    مزید پڑھیے

    علاج زخم دل ہوتا ہے غم خواری بھی ہوتی ہے

    علاج زخم دل ہوتا ہے غم خواری بھی ہوتی ہے مگر مقتل کی میرے خوں سے گل کاری بھی ہوتی ہے وہی قاتل وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے یہ ہے طرفہ تماشا کربلائے عصر حاضر کا گھروں میں قاتلوں کے اب عزا داری بھی ہوتی ہے تعلق ان سے ٹوٹا تھا نہ ٹوٹا ہے نہ ...

    مزید پڑھیے

    معمول پہ ساحل رہتا ہے فطرت پہ سمندر ہوتا ہے

    معمول پہ ساحل رہتا ہے فطرت پہ سمندر ہوتا ہے طوفاں جو ڈبو دے کشتی کو کشتی ہی کے اندر ہوتا ہے جو فصل خزاں میں کانٹوں پر رقصان و غزلخواں گزرے تھے وہ موسم گل میں بھول گئے پھولوں میں بھی خنجر ہوتا ہے ہر شام چراغاں ہوتا ہے اشکوں سے ہماری پلکوں پر ہر صبح ہماری بستی میں جلتا ہوا منظر ...

    مزید پڑھیے

    خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے

    خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے اب بھی بھر سکتے ہیں مے خانے کے سب جام و سبو میرا بھیگا ہوا دامن جو نچوڑا جائے ہر قدم مرحلۂ مرگ تمنا ہے مگر زندگی پھر بھی ترا ساتھ نہ چھوڑا جائے آؤ پھر آج کریدیں دل افسردہ کی راکھ آؤ سوئی ہوئی یادوں کو جھنجھوڑا ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    نظم

    ہمارے شعروں میں مقتل کے استعارے ہیں ہمارے غزلوں نے دیکھا ہے کوچۂ قاتل صلیب و دار پہ نظمیں ہماری لٹکی ہیں ہماری فکر ہے زخمی لہو لہان ہے فکر ہر ایک لفظ پریشاں ہر ایک مصرعہ اداس ہم اپنے شعروں کے مفہوم پر پشیماں ہیں خدا کرے کہ جو آئیں ہمارے بعد وہ لوگ ہمارے فن کی علامات کو سمجھ نہ ...

    مزید پڑھیے