Makhmoor Saeedi

مخمور سعیدی

ممتازجدید شاعر/ رسالہ ’تحریک‘ سے وابستگی

Prominent modern poet / was associated with the magazine 'Tahrik'

مخمور سعیدی کے تمام مواد

31 غزل (Ghazal)

    نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں

    نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں ترے قریب رہوں میں کہ تجھ سے دور رہوں کہیں کوئی ترا محرم ہے اے دل محزوں مجھے بتا کہ کدھر جاؤں کس سے بات کروں تری نظر نے بہت کچھ سکھا دیا دل کو کچھ اتنا سہل نہ تھا ورنہ کاروبار جنوں پکارتی ہیں مجھے وسعتیں دو عالم کی میں اپنے آپ سے دامن چھڑا سکوں ...

    مزید پڑھیے

    دل کے ورق سادہ پہ کچھ رنگ ابھاریں

    دل کے ورق سادہ پہ کچھ رنگ ابھاریں خوں گشتہ تمناؤں کی تصویر اتاریں شاید کوئی روزن کوئی کھڑکی نکل آئے سر اپنا چلو وقت کی دیوار سے ماریں کب تک دل دیوانہ یہ بے وجہ تعاقب اب ہاتھ کہاں آئیں گی رم کردہ بہاریں برہم ہوئی وہ محفل‌ یاران خوش اوقات تنہائی کے لمحات کہاں جا کے گزاریں آنگن ...

    مزید پڑھیے

    جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں

    جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں زندگی یہ ہے کہ ہر سانس میں مرتا جاؤں خون ہر لمحۂ موجود کا کرتا جاؤں رنگ تصویر‌ شب و روز میں بھرتا جاؤں منتشر سلسلۂ غم کو تو کرتا جاؤں ساتھ ہی ساتھ مگر خود بھی بکھرتا جاؤں بس یوں ہی ہمسریٔ اہل جہاں ممکن ہے دم بہ دم اپنی بلندی سے اترتا جاؤں میں کسی ...

    مزید پڑھیے

    بیان شوق پہ مائل وہ کم نظر ہوں گے

    بیان شوق پہ مائل وہ کم نظر ہوں گے جو ضبط شوق کی لذت سے بے خبر ہوں گے لذیذ ہو تو حکایت دراز ہوتی ہے ہم اہل غم کے فسانے تو مختصر ہوں گے ملے گی عشق کی ان میں بھی کار فرمائی وہ حادثے جو کسی اور نام پر ہوں گے کھلا نہ تھا یہ کبھی راز ان کی قربت میں کہ دور ہو کے وہ مجھ سے قریب تر ہوں گے تو ...

    مزید پڑھیے

    ادھوری قربتوں کے خواب آنکھوں کو دکھا جانا

    ادھوری قربتوں کے خواب آنکھوں کو دکھا جانا ہزاروں دوریوں پر یہ ترا کچھ پاس آ جانا اداسی کے دھندلکوں کا دماغ و دل پہ چھا جانا نظر کے سامنے اک گمشدہ منظر کا آ جانا سنی ہے میں نے اکثر بند دروازوں کی سرگوشی صدائیں چاہتی ہیں سب کھلی سڑکوں پہ آ جانا تری یادیں کہ اس طوفان ظلمت میں بھی ...

    مزید پڑھیے

تمام

3 نظم (Nazm)

    بلاوا

    ذرا ٹھہرو کدھر ہم جا رہے ہیں ادھر اس چار دیواری کے پیچھے وہ بوڑھا گورکن چلا رہا ہے ''ادھر آؤ قدم جلدی بڑھاؤ یہاں اس چار دیواری کے اندر جنم دن سے تمہاری منتظر ہیں وہ قبریں جن کی پیشانی پہ اب تک کسی کے نام کا کتبہ نہیں ہے''

    مزید پڑھیے

    ایک پرانا شہر

    مہر بہ لب ویران دریچے دروازے سنسان دور پہاڑوں کی چوٹی پر شاہی گورستان نیم کی شاخوں میں الجھی ہے کنکوے کی کانپ دیواروں پر رینگ رہا ہے شکستگی کا سانپ سڑکیں رہگیروں پر ڈالیں ٹھنڈی سرد نگاہ شرم عریانی سے چپ ہے بوڑھی شہر پناہ وقت کے قدموں کی آہٹ دیتی ہے سنائی ایسے سناٹے میں بھٹک رہی ...

    مزید پڑھیے

    لفظوں کا المیہ

    نئے نئے لفظ شور کرتے بڑھے چلے آ رہے ہیں فکر و خیال کی رہ گزر آباد ہو رہی ہے زباں بہت سی پرانی حد بندیوں سے آزاد ہو رہی ہے کئی فسانے جو ان کہے تھے کئی تصور جو بے زباں تھے ہزار عالم نشاط و غم کے جو پہلے نا قابل بیاں تھے وہ دھڑکنیں خامشی ہی جن کے خروش پنہاں کی ترجماں تھی وہ نغمگی جو ...

    مزید پڑھیے