Makhmoor Jalandhari

مخمور جالندھری

مخمور جالندھری کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    کیا جانے کہاں بحر الفت کا کنارا ہے

    کیا جانے کہاں بحر الفت کا کنارا ہے ہر موج کے سینے میں کشتی کو اتارا ہے اب آہ رکے کیوں کر اب اشک تھمیں کیسے چلتی ہوئی آندھی ہے بہتا ہوا دھارا طوفان تدبر ہے گہرائی تدبر کی میں نے تہ دریا سے ساحل کو ابھارا ہے پروانے چراغوں پر گرنے لگے مستی میں یہ محفل ہستی میں کون انجمن آرا ہے سب ...

    مزید پڑھیے

    محبت بے نیاز‌ اسوا ہے

    محبت بے نیاز‌ اسوا ہے بڑے جھگڑوں پہ قابو پا لیا ہے تصور فی الحقیقت معجزہ ہے کسی کا دل پہ سایہ پڑ رہا ہے خدا ہی سے نہ کیوں مانگوں پناہیں کہ ذہن نا خدا میں بھی خدا ہے محافظ بھی مرا مجبور نکلا گنا کرتا ہوں میں وہ دیکھتا ہے سمجھتا ہے تجھے اپنی تجلی ترا پرتو بھی کتنا خود نما ...

    مزید پڑھیے

    ہم عقل پہ الفت میں بھروسا نہیں کرتے

    ہم عقل پہ الفت میں بھروسا نہیں کرتے جب کرتے ہیں کچھ کام تو سوچا نہیں کرتے خود جاگتے ہیں رکھتے ہیں تاروں کو بھی بیدار بیکار شب ہجر گزارا نہیں کرتے وہ جن کو یقیں حسن درخشاں پہ ہے اپنے کیوں دل کے اندھیرے میں اجالا نہیں کرتے ہم دیکھتے ہیں روز مہ و مہر کا جلوہ کس روز ترے رخ کا تماشا ...

    مزید پڑھیے

    مجھ سے شکیب قلب کا ساماں نہ ہو سکا

    مجھ سے شکیب قلب کا ساماں نہ ہو سکا اس پر بھی دل کا راز نمایاں نہ ہو سکا یہ دل مٹا مٹا سا یہ شعلہ بجھا بجھا ایک آفتاب سے بھی فروزاں نہ ہو سکا سلجھائے تیری زلف پریشاں کے بل مگر قائم نظام عالم امکاں نہ ہو سکا تجھ کو ترے شباب کو رنگ بقا دیا اپنی ہی زیست کا کوئی ساماں نہ ہو سکا چھڑکی ...

    مزید پڑھیے

    زیست کی ہر رہ گزر پر حشر برپا چاہئے

    زیست کی ہر رہ گزر پر حشر برپا چاہئے دل میں ہنگامہ نگاہوں میں تماشا چاہئے آنسوؤں میں بھی ترا جلوہ ہویدا چاہئے غم کے طوفانوں میں صرف اتنا سہارا چاہئے شام غم دی ہے تو اک تاباں تصور دے مجھے میں اندھیرا کیا کروں مجھ کو اجالا چاہئے میری ہستی سے برسنے لگ گئی ہیں بجلیاں اب ترے جلووں ...

    مزید پڑھیے

تمام

4 نظم (Nazm)

    کندن

    کندن ساٹھ برس کا بوڑھا چھوٹے قدم اٹھاتا ہے صبح سویرے دھیرے دھیرے پل پر بیٹھنے آتا ہے دائیں بائیں اس کی نگاہیں دوڑتی ہیں کچھ ڈھونڈھتی ہیں تیس برس پہلے کا زمانہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے بیتے دنوں کا تصور دل کے دکھ کو اور بڑھاتا ہے دنیا اک دن اس کی تھی یہ دنیا آخر کس کی ہوئی کندن چلتے ...

    مزید پڑھیے

    مگرمچھ کے آنسو

    سنتے ہیں یاد مصیبت میں خدا آتا ہے آسرا اک یہی مجبور کی تقدیر میں رہ جاتا ہے ''کھول دو بند کلیساؤں کے در کھول بھی دو مانا مانوس نہیں ہاتھ دعاؤں سے دعائیں مانگیں مملکت پر کہیں خورشید نہ ہو جائے غروب حکم دے دو کہ سبھی اپنے خداؤں سے دعائیں مانگیں'' جی پہ بن جائے تو ذلت بھی اٹھا لیتے ...

    مزید پڑھیے

    کم نگاہی

    مر کے دیکھتا ہوں میں زندگی کی رزم گاہ سرد اور بجھی ہوئی جیسے ایک بیسوا رات کی تھکی ہوئی ہو پلنگ پر اداس نیم جاں پڑی ہوئی کوئی کشمکش نہیں کوئی جستجو نہیں اب تو دور دور تک حشر ہاؤ ہو نہیں چار سو نگاہ میں سوکھے سوکھے جسم میں موت کی جبیں پہ ہیں یا کریہہ تیوریاں چار سو نگاہ میں ہڈیوں کے ...

    مزید پڑھیے

    نیا مکان

    چلو مکاں کی مصیبت سے بھی نجات ملی یہ خواب گہ، یہ کچن، غسل خانہ اور بیٹھک میں سوچتا ہوں مجھے سوچنے کو بات ملی ہوئی ہیں صرف مشقت کی کوششیں ان تھک نظر ربا در و دیوار کے بنانے میں یہ قمقمے یہ تمدن کی اختراع جدید بڑھی ضلالت ادراک تیرگی نہ مٹی یہ سیڑھیاں ہیں نگاہوں کے پیچ کی مظہر حیات ...

    مزید پڑھیے