Makhmoor Dehlvi

مخمور دہلوی

ممتاز شاعر،اپنے شعر "محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں " کے لیے مشہور

Prominent Delhi poet known for his sher 'Mohabbat ke liye kuch khaas dil makhsus hote hain…'

مخمور دہلوی کی غزل

    کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا

    کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا یہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتا محبت کا صلہ ایثار کا حاصل نہیں ملتا وہ نظریں بارہا ملتی ہیں لیکن دل نہیں ملتا تمہارا روٹھنا تمہید تھی افسانۂ غم کی زمانہ ہو گیا ہم سے مزاج دل نہیں ملتا جہاں تک دیکھتا ہوں میں جہاں تک میں نے سمجھا ...

    مزید پڑھیے

    دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا

    دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا جہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتا مرے ٹوٹے ہوئے پائے طلب کا مجھ پہ احساں ہے تمہارے در سے اٹھ کر اب کہیں جایا نہیں جاتا محبت ہو تو جاتی ہے محبت کی نہیں جاتی یہ شعلہ خود بھڑک اٹھتا ہے بھڑکایا نہیں جاتا فقیری میں بھی مجھ کو مانگنے سے شرم ...

    مزید پڑھیے

    ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے

    ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے خیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہے غم فراق میں دل کیوں نہ درد مند رہے بہار آ کے گئی ہم قفس میں بند رہے خدا کی یاد میں دنیا کو بھول جا اے دل وہ کام کر کہ ہر اک طرف سود مند رہے ملے کہ کچھ نہ ملے مانگنے سے کام رکھوں تری جناب میں دست دعا بلند رہے دکھائیں ...

    مزید پڑھیے

    تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی (ردیف .. ن)

    تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی جسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیں اس طرح فریاد کرنے کو کلیجہ چاہئے اب کوئی گلشن میں میرا ہم نوا ہوتا نہیں وہ محبت آفریں دیتا ہے حسب ظرف عشق پھر کسی سے بھی طلب گار وفا ہوتا نہیں اک تخیل ہے کہ جس میں محو ہے میرا دماغ اک تصور یہ جو آنکھوں سے ...

    مزید پڑھیے

    دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی

    دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی وہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتی اسے تو راہ میں ارباب ہمت چھوڑ دیتے ہیں کسی کے ساتھ منزل تک تن آسانی نہیں جاتی کسے ملتی ہیں وہ آنکھیں محبت میں جو روتی ہیں مبارک ہیں وہ آنسو جن کی ارزانی نہیں جاتی ابھرتا ہی نہیں دل ڈوب کر بحر محبت ...

    مزید پڑھیے

    خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا

    خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا مجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا محبت جذبۂ ایثار سے پروان چڑھتی ہے خلوص دل نہ ہو تو دوستی سے کچھ نہیں ہوتا وہاں تیرا کرم تیرا بھروسہ کام آتا ہے جہاں مجبور ہو کر آدمی سے کچھ نہیں ہوتا ضیائے شمس بھی موجود ہے نور قمر بھی ہے بصیرت ہی ...

    مزید پڑھیے

    یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے

    یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے ترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتے قفس میں بھی مجھے صیاد کے ہاتھوں سے ملتے ہیں مری تقدیر کے لکھے ہوئے دانے کہاں جاتے نہ چھوڑا ضبط نے دامن نہیں تو تیرے سودائی ہجوم غم سے گھبرا کر خدا جانے کہاں جاتے میں اپنے آنسوؤں کو کیسے دامن میں ...

    مزید پڑھیے

    رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرف

    رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرف آنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرف ڈوبنے والے کی مایوسی پہ دل تھرا گیا کس نگاہ یاس سے دیکھا تھا ساحل کی طرف سچ ہے اک اجڑی ہوئی دنیا کے کیا لیل و نہار تم سے بھی اب تو نہ دیکھا جائے گا دل کی طرف کس فسردہ خاطری سے رات بھر جلتی رہی دیر تک دیکھا کیے ...

    مزید پڑھیے