کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا
کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا یہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتا محبت کا صلہ ایثار کا حاصل نہیں ملتا وہ نظریں بارہا ملتی ہیں لیکن دل نہیں ملتا تمہارا روٹھنا تمہید تھی افسانۂ غم کی زمانہ ہو گیا ہم سے مزاج دل نہیں ملتا جہاں تک دیکھتا ہوں میں جہاں تک میں نے سمجھا ...