Makhmoor Dehlvi

مخمور دہلوی

ممتاز شاعر،اپنے شعر "محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں " کے لیے مشہور

Prominent Delhi poet known for his sher 'Mohabbat ke liye kuch khaas dil makhsus hote hain…'

مخمور دہلوی کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا

    کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا یہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتا محبت کا صلہ ایثار کا حاصل نہیں ملتا وہ نظریں بارہا ملتی ہیں لیکن دل نہیں ملتا تمہارا روٹھنا تمہید تھی افسانۂ غم کی زمانہ ہو گیا ہم سے مزاج دل نہیں ملتا جہاں تک دیکھتا ہوں میں جہاں تک میں نے سمجھا ...

    مزید پڑھیے

    دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا

    دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا جہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتا مرے ٹوٹے ہوئے پائے طلب کا مجھ پہ احساں ہے تمہارے در سے اٹھ کر اب کہیں جایا نہیں جاتا محبت ہو تو جاتی ہے محبت کی نہیں جاتی یہ شعلہ خود بھڑک اٹھتا ہے بھڑکایا نہیں جاتا فقیری میں بھی مجھ کو مانگنے سے شرم ...

    مزید پڑھیے

    ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے

    ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے خیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہے غم فراق میں دل کیوں نہ درد مند رہے بہار آ کے گئی ہم قفس میں بند رہے خدا کی یاد میں دنیا کو بھول جا اے دل وہ کام کر کہ ہر اک طرف سود مند رہے ملے کہ کچھ نہ ملے مانگنے سے کام رکھوں تری جناب میں دست دعا بلند رہے دکھائیں ...

    مزید پڑھیے

    تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی (ردیف .. ن)

    تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی جسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیں اس طرح فریاد کرنے کو کلیجہ چاہئے اب کوئی گلشن میں میرا ہم نوا ہوتا نہیں وہ محبت آفریں دیتا ہے حسب ظرف عشق پھر کسی سے بھی طلب گار وفا ہوتا نہیں اک تخیل ہے کہ جس میں محو ہے میرا دماغ اک تصور یہ جو آنکھوں سے ...

    مزید پڑھیے

    دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی

    دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی وہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتی اسے تو راہ میں ارباب ہمت چھوڑ دیتے ہیں کسی کے ساتھ منزل تک تن آسانی نہیں جاتی کسے ملتی ہیں وہ آنکھیں محبت میں جو روتی ہیں مبارک ہیں وہ آنسو جن کی ارزانی نہیں جاتی ابھرتا ہی نہیں دل ڈوب کر بحر محبت ...

    مزید پڑھیے

تمام