Majaz Jaipuri

مجاز جے پوری

  • 1937

مجاز جے پوری کی غزل

    کچھ گردش زمانہ کچھ آرزو کرے ہے

    کچھ گردش زمانہ کچھ آرزو کرے ہے باقی جو بچ رہے ہے وہ کام تو کرے ہے خون جگر کرے ہے دل کو لہو کرے ہے یہ دور آدمی کو یوں سرخ رو کرے ہے موتی ہے یہ پلک پر رخسار پر ہے شبنم گر کر زمیں پہ آنسو بے آبرو کرے ہے زنداں کی دل شکستہ تنہائیوں میں کوئی دیوار و در سے جانے کیا گفتگو کرے ہے ہر ذرہ ...

    مزید پڑھیے

    ایسے چھوتے ہیں تصور میں تجھے ہم چپ چاپ

    ایسے چھوتے ہیں تصور میں تجھے ہم چپ چاپ جیسے پھولوں کو چھوا کرتی ہے شبنم چپ چاپ ترک الفت پہ بھی کر جاتے ہیں اکثر گمراہ میرے خوابوں کو ترے گیسوئے پر خم چپ چاپ جیسے کرتی ہی نہیں تنگ ہمیں یہ معصوم کیسے جاتی ہے شب ہجر سحر دم چپ چاپ کوئی ملتا ہی نہیں اس کو سخن کا موضوع بیٹھی رہتی ہے ...

    مزید پڑھیے

    ہوا میں تیز روی ہے نہ جوش پانی میں

    ہوا میں تیز روی ہے نہ جوش پانی میں سکوت مرگ ہے سیلاب کی روانی میں نہ کوئی بات نہ جھگڑا نہ مدعا کوئی جھلس رہا ہے مرا شہر بد گمانی میں بلا سبب نہیں شرح حیات کی سرخی جگر کا خون بھی شامل ہے ترجمانی میں ہوئی تمام چلو زحمت خریداری بلا کا لطف ہے اس دور کی گرانی میں ہوا فقیر تو سدرہ پہ ...

    مزید پڑھیے

    حلقۂ اعتبار میں کب تھے

    حلقۂ اعتبار میں کب تھے ہم کسی کے شمار میں کب تھے غازۂ پر فریب کیا کرتا آئنے اختیار میں کب تھے سامنا اور ہم فقیروں کا حوصلے شہریار میں کب تھے جشن رخصت ہے شہر میں جن کا وہ امان حصار میں کب تھے دستکیں نا مراد ہی لوٹیں وہ مرے انتظار میں کب تھے بولتی کیوں نہیں یہ زنجیریں یہ قدم ...

    مزید پڑھیے