ہوا میں تیز روی ہے نہ جوش پانی میں

ہوا میں تیز روی ہے نہ جوش پانی میں
سکوت مرگ ہے سیلاب کی روانی میں


نہ کوئی بات نہ جھگڑا نہ مدعا کوئی
جھلس رہا ہے مرا شہر بد گمانی میں


بلا سبب نہیں شرح حیات کی سرخی
جگر کا خون بھی شامل ہے ترجمانی میں


ہوئی تمام چلو زحمت خریداری
بلا کا لطف ہے اس دور کی گرانی میں


ہوا فقیر تو سدرہ پہ آ گیا آخر
بھٹک گئے تھے قدم جس کے حکمرانی میں


بوقت نزع نظر آ رہا ہے وہ معبود
جو ہم کو یاد نہ آیا بھری جوانی میں


مجازؔ جس کی ستائش میں شعر کہتا ہوں
بس ایک وہ ہی نہیں ہے مری کہانی میں