Maikash Nag Puri

میکش ناگپوری

میکش ناگپوری کی غزل

    بقدر ظرف محبت کا کاروبار چلے

    بقدر ظرف محبت کا کاروبار چلے مزہ تو جب ہے کہ ہر لمحہ ذکر یار چلے تری نگاہ کے جب اہل دل پہ وار چلے خزاں نصیب چمن جانب بہار چلے اتر نہ جائے کہیں تیرے حسن کی رنگت کہ تیری بزم سے اب تیرے جاں نثار چلے جو آ گئی کبھی سر دینے کی گھڑی اے دوست خوشی خوشی ترے دیوانے سوئے دار چلے اداس دیکھ ...

    مزید پڑھیے

    بھرم کھلنے نہ پائے بندگی کا

    بھرم کھلنے نہ پائے بندگی کا وہ ماتم کر رہے ہیں زندگی کا تعجب ہے خلوص دوستاں پر نہیں غم دشمنوں کی دشمنی کا بھڑک اٹھتی ہے دل میں آتش غم خیال آتا ہے جب ان کی گلی کا ابھی ہے بند آنکھ انسانیت کی ابھی دم گھٹ رہا ہے آدمی کا تمہاری یاد نے کی رہنمائی خیال آیا مجھے جب بے خودی کا لگی دل ...

    مزید پڑھیے

    غنچہ و گل میں تازگی نہ رہی

    غنچہ و گل میں تازگی نہ رہی اب بہاروں میں دل کشی نہ رہی اب تو قندیل دل کرو روشن بزم ہستی میں روشنی نہ رہی جو بھی کرنا ہے آج ہی کر لے کل یہ دنیا رہی رہی نہ رہی وہ گلے مل کے کیا ہوئے رخصت زندگی جان زندگی نہ رہی کر رہے ہیں وہ اہتمام غم اب تو میری خوشی خوشی نہ رہی مے کدہ ہو گیا تہہ و ...

    مزید پڑھیے

    زمیں کے چاند ستاروں کو نیند آتی ہے

    زمیں کے چاند ستاروں کو نیند آتی ہے حیات بخش بہاروں کو نیند آتی ہے ابھی چمن کا مقدر چمک نہیں سکتا ابھی چمن کی بہاروں کو نیند آتی ہے جنازہ اشکوں کا پلکوں کے دوش پر ہے ابھی اسی لئے تو نظاروں کو نیند آتی ہے نظام بزم گلستاں بدل گیا شاید چمن کی گود میں خاروں کو نیند آتی ہے اب انقلاب ...

    مزید پڑھیے

    احباب کے قریب محبت سے بیٹھیے

    احباب کے قریب محبت سے بیٹھیے عزت جو مل گئی ہے تو عزت سے بیٹھیے ان کی گلی میں جانا ضروری نہیں مگر جانا جو ہو گیا تو شرافت سے بیٹھیے انجام عشق ٹھیک ہی ہوگا جناب شیخ فرصت سے آ گئے ہو تو فرصت سے بیٹھیے ساحل سے ہر خوشی کا نظارہ فضول ہے طوفان غم میں رہ کے بھی ہمت سے بیٹھیے نفرت کی بات ...

    مزید پڑھیے

    مرا دیوانگی پر اس قدر مغرور ہو جانا

    مرا دیوانگی پر اس قدر مغرور ہو جانا کہ رفتہ رفتہ حد آگہی سے دور ہو جانا پتہ دیتا ہے گمراہیٔ رہ گیر محبت کا بچھڑنا اور بچھڑ کر قافلے سے دور ہو جانا کہیں دنیائے الفت کو تہہ و بالا نہ کر ڈالے غرور حسن کے آئین کا دستور ہو جانا ازل سے تیرہ بخت عشق کے حصے میں آیا ہے شب‌ غم‌ دل کا جل ...

    مزید پڑھیے

    زندگی نقص زندگی تو نہیں

    زندگی نقص زندگی تو نہیں بندگی میں کوئی کمی تو نہیں آپ کی دوستی سے ڈرتا ہوں آپ سے کوئی دشمنی تو نہیں بے اصولی اصول ہو جائے آپ پر ایسی بے خودی تو نہیں آج ظلمت کے چہرے پر ہے نور ان کا غم باعث خوشی تو نہیں میں گناہوں میں غرق ہوں لیکن اس کی رحمت میں کچھ کمی تو نہیں میرے سینے میں ...

    مزید پڑھیے

    زندگی کی سخت زنجیروں میں جکڑا دیکھ کر

    زندگی کی سخت زنجیروں میں جکڑا دیکھ کر آج تم بھی ہنس رہے ہو مجھ کو تنہا دیکھ کر اب تو وہ بھی مجھ سے کترا کر گزر جانے لگے میرے ماحول پریشانی کا نقشا دیکھ کر حوصلہ کس میں تھا جو دیتا برابر کا جواب صبر کرنا ہی پڑا ان کا رویہ دیکھ کر آج تجھ کو بھی ہنسی آنے لگی اے باغباں نوجواں پھولوں ...

    مزید پڑھیے

    درد کی انتہا نہیں معلوم

    درد کی انتہا نہیں معلوم حشر کیوں کر اٹھا نہیں معلوم کون ہے آشنا نہیں معلوم کون دے گا دغا نہیں معلوم وہ تو رخصت ہوئے گلے مل کر کب ٹلے گی بلا نہیں معلوم اے مسیحا مرا علاج نہ کر تجھ کو میری دوا نہیں معلوم دوستوں کا خلوص یاد رہا دشمنوں کی ادا نہیں معلوم پھول مرجھا گئے گلستاں ...

    مزید پڑھیے

    مری ہر خوشی خوشی تھی تری ہر خوشی سے پہلے

    مری ہر خوشی خوشی تھی تری ہر خوشی سے پہلے مجھے کوئی غم نہیں تھا غم عاشقی سے پہلے کوئی کشمکش نہیں تھی غم دشمنی سے پہلے مجھے خوف ہی کہاں تھا تری دوستی سے پہلے نہ بہار میکدہ تھی نہ سرور بخش نغمے ترے میکدے میں کیا تھا مری مے کشی سے پہلے میں دعائیں چاہتا ہوں میں دعا کا مستحق ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2