Mahwi Siddiqi

محوی صدیقی

محوی صدیقی کی نظم

    ننھی منی چڑیاں

    کوئی ان کو پکڑ نہیں سکتا اڑ کے جان اپنی یہ بچاتی ہیں بیٹھ کر الگنی پہ خوش ہو کر پر کھجاتی ہیں دم ہلاتی ہیں کام کے وقت کرتی ہیں یہ کام کام سے منہ نہیں چراتی ہیں بیٹھ کر کھونٹیوں پہ چھینکوں پر اپنی چوں چوں ہمیں سناتی ہیں کھیل کے وقت کھیلتی ہیں یہ مل کے اودھم بہت مچاتی ہیں جب بسیرے کا ...

    مزید پڑھیے

    صبح کا سویرا

    صبح ہوئی اب اٹھو بچی نیند ابھی تک کیوں ہے کچی رات گئی وہ سورج نکلا وہ پھیلا گھر بھر میں اجالا اٹھو اٹھو منہ دھو ڈالو سستی ہو تو جا کے نہا لو آپا جاگیں بھیا جاگے اٹھتے ہی بستر سے بھاگے ابا اٹھے دادی اٹھیں اور نمازیں سب نے پڑھ لیں جاگ اٹھا ہے گھر بھر سارا یہ کیسا سونا ہے تمہارا صبح ...

    مزید پڑھیے