Mahshar Kazim Husain Lakhnavi

محشر کاظم حسین لکھنوی

محشر کاظم حسین لکھنوی کی غزل

    مدتیں ہو گئی ہیں چپ رہتے

    مدتیں ہو گئی ہیں چپ رہتے کوئی سنتا تو ہم بھی کچھ کہتے جل گیا خشک ہو کے دامن دل اشک آنکھوں سے اور کیا بہتے بات کی اور منہ کو آیا جگر اس سے بہتر یہی تھا چپ رہتے ہم کو جلدی نے موت کی مارا اور جیتے تو اور غم سہتے سب ہی سنتے تمہاری اے محشرؔ کوئی کہنے کی بات اگر کہتے

    مزید پڑھیے

    دیر تک اٹھ نہ سکا واں سے وہ دیوانۂ دوست

    دیر تک اٹھ نہ سکا واں سے وہ دیوانۂ دوست چھڑ گیا جب کہ کہیں بیٹھ کے افسانۂ دوست آج اٹھے جاتے ہیں درباں کی جفا سے لیکن زندگی بھر کہیں چھٹتا ہے در خانۂ دوست ہجر میں حالت دل کی ہیں وہ آنکھیں نگراں دیکھی تھی جن سے کبھی رونق‌ کاشانۂ دوست راہبر شوق دلی سر پہ اجل دل بیتاب بے خبر یوں ...

    مزید پڑھیے