گلوں سے وصل کے پیماں ہوا نے لکھے تھے
گلوں سے وصل کے پیماں ہوا نے لکھے تھے نصیب شاخ مگر تازیانے لکھے تھے ترا وصال ہی زرخیزیوں کا لمحہ تھا پھر اس کے بعد تو بنجر زمانے لکھے تھے کبھی تو پڑھتا مرا شہریار بھی ان کو جو بام و در پہ نوشتے قضا نے لکھے تھے سروں سے گرنے لگیں جب ہماری دستاریں ان آندھیوں میں ہمیں سر بچانے لکھے ...