Mahmood rae Barelvi

محمود رائے بریلوی

محمود رائے بریلوی کی غزل

    نہیں کم عفو یزدانی بہت ہے

    نہیں کم عفو یزدانی بہت ہے گناہوں پر پشیمانی بہت ہے کوئی تو حادثہ گزرا ہے دل پر شب غم آج نورانی بہت ہے دلوں پر تہہ بہ تہہ ظلمت کے پردے جبیں پر نور ایمانی بہت ہے ادھر ہی تشنۂ دیدار کم ہیں ادھر تو جلوہ سامانی بہت ہے کسے راس آئے سودائے محبت منافع کم پریشانی بہت ہے زباں ہے رہن ذکر ...

    مزید پڑھیے

    کرم نوازو نے کوشش ہزار کی ہے تو کیا

    کرم نوازو نے کوشش ہزار کی ہے تو کیا مرے نصیب میں راحت نہیں لکھی ہے تو کیا تونگری ہو کہ افلاس چار دن کی ہے یہ زندگی ہے تو کیا ہے وہ زندگی ہے تو کیا عبث ہے فخر سنا کر فسانۂ اسلاف وہ شکل آج نہیں ہے کبھی رہی ہے تو کیا جب ایک کار نمایاں نہ کر سکے کوئی تو پھر ہزار برس کی بھی زندگی ہے تو ...

    مزید پڑھیے

    عہد حاضر نے جو ٹھکرایا بہت

    عہد حاضر نے جو ٹھکرایا بہت وہ پرانا دور یاد آیا بہت کیا ملا میری تباہی پر انہیں خندہ زن ہے میرا ہمسایہ بہت عیش و عشرت میں تو ہم بھولے رہے دکھ مصیبت میں وہ یاد آیا بہت ہو مبارک لذت افراط غم ہے یہ ارزانی گراں مایہ بہت چھت نہیں میرے مکاں میں تو نہ ہو آسماں کا ہے مجھے سایہ بہت خشک ...

    مزید پڑھیے