نہیں کم عفو یزدانی بہت ہے
نہیں کم عفو یزدانی بہت ہے گناہوں پر پشیمانی بہت ہے کوئی تو حادثہ گزرا ہے دل پر شب غم آج نورانی بہت ہے دلوں پر تہہ بہ تہہ ظلمت کے پردے جبیں پر نور ایمانی بہت ہے ادھر ہی تشنۂ دیدار کم ہیں ادھر تو جلوہ سامانی بہت ہے کسے راس آئے سودائے محبت منافع کم پریشانی بہت ہے زباں ہے رہن ذکر ...