Mahir Sivharvi

ماہر سیوہاروی

ماہر سیوہاروی کی غزل

    لائق دستار آخر کوئی سر ہونا ہی تھا

    لائق دستار آخر کوئی سر ہونا ہی تھا اک نہ اک دن تو یہ قصہ مختصر ہونا ہی تھا دیکھ کر اشک ندامت آ گیا رحمت کو جوش اب تو میری ہر خطا کو در گزر ہونا ہی تھا چشم پر نم تھی نہ میرے ہونٹوں پر شکوہ گلہ میرے غم سے ہر کسی کو بے خبر ہونا ہی تھا انقلاب وقت کا پرچم تھا میرے ہاتھ میں زینت دار و ...

    مزید پڑھیے