لائق دستار آخر کوئی سر ہونا ہی تھا
لائق دستار آخر کوئی سر ہونا ہی تھا اک نہ اک دن تو یہ قصہ مختصر ہونا ہی تھا دیکھ کر اشک ندامت آ گیا رحمت کو جوش اب تو میری ہر خطا کو در گزر ہونا ہی تھا چشم پر نم تھی نہ میرے ہونٹوں پر شکوہ گلہ میرے غم سے ہر کسی کو بے خبر ہونا ہی تھا انقلاب وقت کا پرچم تھا میرے ہاتھ میں زینت دار و ...