Mahir Bilgrami

ماہر بلگرامی

ماہر بلگرامی کی غزل

    تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے

    تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے سر افلاک نیا باب قمر کھولا ہے ڈھل گیا دن بھی وہیں رات نے ڈیرا ڈالا تھک کے رہرو نے جہاں رخت سفر کھولا ہے میرے چپ رہنے پہ بھی بات وہاں تک پہنچی راز دل تو نے مگر دیدۂ تر کھولا ہے ہم کبھی تہہ سے سمندر کے ہیں موتی لائے کبھی پرچم سر مہ سینہ سپر ...

    مزید پڑھیے

    لب نازک پہ جب ہنسی آئی

    لب نازک پہ جب ہنسی آئی آگ ہر سو بکھیرتی آئی جانے کیا بیٹھے بیٹھے یاد آیا رخ عاشق پہ تازگی آئی شام غم درد دل بڑھانے کو چاند کے ساتھ چاندنی آئی آ گئے یاد غم زمانے کے کبھی بھولے سے جو ہنسی آئی بن گئی جان پر محبت میں دوستی بن کے دشمنی آئی لذت ظلم کے ہیں سب مداح راس ان کو ستم گری ...

    مزید پڑھیے

    کچھ شمع سے پوچھو نہ شب تار سے پوچھو

    کچھ شمع سے پوچھو نہ شب تار سے پوچھو کیا ہجر میں بیتی یہ دل زار سے پوچھو سوسن سے نہ کچھ نرگس بیمار سے پوچھو تاراجیٔ گلشن کا سبب خار سے پوچھو زحمت نہ دو ایسے میں نہ بیمار سے پوچھو کیا حال ہے یہ نبض کی رفتار سے پوچھو کیوں دست حنائی دل آزار سے پوچھو رنگ گل لالہ لب و رخسار سے ...

    مزید پڑھیے

    منفرد تو ہے ترا کوئی مقابل نہ ہوا

    منفرد تو ہے ترا کوئی مقابل نہ ہوا کوئی مخلوق بھی کونین میں کامل نہ ہوا اک تماشا وہ بھی دیدار کے قابل نہ ہوا رقص بسمل جو سر کوچۂ قاتل نہ ہوا دل جو قربانیٔ پروانہ کا حامل نہ ہوا درخور انجمن شمع شمائل نہ ہوا کون ہے تیری عنایت کا جو قائل نہ ہوا کس کے دکھ سکھ میں تو وقت آنے پہ شامل نہ ...

    مزید پڑھیے

    لطف حیات نو ہے ہر اک انقلاب میں

    لطف حیات نو ہے ہر اک انقلاب میں ہیں اصل زندگی کے مزے پیچ و تاب میں یوں تو بہت سی باتیں ہیں دل کی کتاب میں لیکن ہے غم کا تذکرہ ہر ایک باب میں لگ جائیں چار چاند ابھی آفتاب میں تحلیل کر کے دیکھے تو کوئی گلاب میں اف یہ عتاب پہلے ہی خط کے جواب میں دھوکا مجھے ضرور ہوا انتخاب میں پھر ...

    مزید پڑھیے

    پیار کا کاروبار کرتا ہوں

    پیار کا کاروبار کرتا ہوں سب کو دنیا میں پیار کرتا ہوں خود پہ میں اعتبار کرتا ہوں پیار کرتا تھا پیار کرتا ہوں آہ بے اختیار کرتا ہوں یاد جب اس کا پیار کرتا ہوں مجھ کو نفرت سے سخت نفرت ہے پیار کو دل سے پیار کرتا ہوں موت کا انتظار کیا معنی زندگانی سے پیار کرتا ہوں سبزہ و خار و گل ...

    مزید پڑھیے

    ہوش منزل کھو کے منزل کا پتا پاتے ہیں لوگ

    ہوش منزل کھو کے منزل کا پتا پاتے ہیں لوگ ترک لذت میں تو کچھ لذت سوا پاتے ہیں لوگ درد کے ماروں کو ہی درد آشنا پاتے ہیں لوگ بے وفاؤں میں کہاں بوئے وفا پاتے ہیں لوگ نطق قاصر ہے بیاں سے وہ مزا پاتے ہیں لوگ مجھ سے پوچھو عشق میں گم ہو کے کیا پاتے ہیں لوگ بعد استغراق ہاتھ آئی ہے بس مطلب ...

    مزید پڑھیے

    مستیٔ دو عالم اک مرکز پہ سمٹ آئی

    مستیٔ دو عالم اک مرکز پہ سمٹ آئی سو کر وہ اٹھا کچھ یوں لیتا ہوا انگڑائی پر شوق نظر میری کچھ دیکھ کے للچائی کچھ اس کے اشاروں سے وہ حوصلہ افزائی یک لخت ہوئے رخصت سب صبر و شکیبائی تڑپا گئی جب آئی اس سمت سے پروائی کیا اس کا اثر اس پر مجمع ہو کہ تنہائی دیوانہ تو دیوانہ سودائی تو ...

    مزید پڑھیے

    الفت کا جس کو روگ لگا وہ بچا نہیں

    الفت کا جس کو روگ لگا وہ بچا نہیں یہ درد ہے وہ درد کہ جس کی دوا نہیں انساں وہ کیا کہ جس سے ہو سرزد خطا نہیں اظہار درد دل پہ یہ غصہ روا نہیں مہر و وفا نہیں ہیں کہ صبر و رضا نہیں ہم افقروں کے کیسۂ خاکی میں کیا نہیں بیمار کے نہ زخم پہ ظالم نمک چھڑک نرگس سے چھیڑ اچھی یہ باد صبا ...

    مزید پڑھیے

    اگر نہ درد سے اس دل کو آشنا کرتے

    اگر نہ درد سے اس دل کو آشنا کرتے غم حیات کا کس طرح تجزیا کرتے خدا نخواستہ کشتی جو ڈوبنے لگتی سوا خدا کے بھلا کیا یہ ناخدا کرتے عجب نہیں تھا کہ آ جاتا ہوش میں بیمار قریب آ کے جو دامن سے وہ ہوا کرتے کٹی تصور حوران خلد میں جن کی ہمارے ان کے بھلا کیا وہ تصفیہ کرتے ہم ایسے رند پس مرگ ...

    مزید پڑھیے