تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے
تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے سر افلاک نیا باب قمر کھولا ہے ڈھل گیا دن بھی وہیں رات نے ڈیرا ڈالا تھک کے رہرو نے جہاں رخت سفر کھولا ہے میرے چپ رہنے پہ بھی بات وہاں تک پہنچی راز دل تو نے مگر دیدۂ تر کھولا ہے ہم کبھی تہہ سے سمندر کے ہیں موتی لائے کبھی پرچم سر مہ سینہ سپر ...